آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۲۹۸، باب زکوۃ المال، وکذا فی تبیین الحقائق:۲؍۷۲، باب زکوۃ المال، وکذا فی مجمع الأنہر:۱؍۳۰۵،کتاب الزکوۃ (فتاوی محمودیۃ ج؍۱۴ص ۵۵) زمرد جواہرات اور دیگر قیمتی پتھروں میں زکوۃ کا حکم سوال :اگر ایک شخص کے پاس ہیرے زمرد او ر دیگر قیمتی پتھر موجود ہو مگر تجارت کے لئے نہ ہو ں تو کیا اس شخص پر ان جواہرات کی زکوۃ واجب ہے یا نہیں ؟ الجواب حامدا ومصلیا ومسلما : تمام وہ قیمتی پتھر جو تجارتی غرض سے اپنے پاس نہ رکھے ہو ویسے شغلا رکھے ہو تو ان پتھروں پر زکوۃ واجب نہیں ۔ ( فتاوی حقانیہ ج ۳ ؍۵۱۲) چودھویں فصل : آلاتِ تجارت سے متعلق احکام ِزکوۃ کارخانو ںاور تجارتی اداروں سے زکوۃ لینے کا حکم سوال : کارخانوں اور تجارتی اداروں پرزکوۃ کے وجوب کے حدود بیان کیجیئے ۔ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: جس کا حصہ خود یا اس کے دوسرے مال ِ زکوۃ کے ساتھ مل کر مقدار نصاب ہو اس پر زکوۃ فرض ہوگی ، لیکن مشینری اور سامان جو کارخانہ چلانے کے لئے تجارت کے لئے نہیں اس میں زکو ۃ نہیں ۔ وشرط حولان الحول وتنمیۃ المال کالدراہم والدنانیر أو السوم أو نیۃ التجارۃ فی العروض إما صریحاً ولا بد من مقارنتہا لعقد التجارۃ ، أو دلالۃ بأن یشتری عیناً یعرض التجارۃ ۔ اہـ الدر المختار ۲؍۶۷ ۲۔ خیر الفتاوی میں ہے واضح رہے کہ زکوۃ کی حیثیت ایک عبادت کی ہے ، اس کی حیثیت ٹیکس کی نہیں جو کہ ہر کارخانہ اور تجارتی ادارہ پر لازم کردیاجائے،لہذا سوال اندر کارخانوں، اورتجارتی اداروں پر زکوۃ کے وجوب اور اس کے حدود کا دریافت کرنا بے معنی ہے ، ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہر کارخانہ یا تجارتی ادارہ جس کا مال حد نصاب کو پہنچ جائے اور اس کا مالک شرائط وجوب زکوۃ کا حامل ہو تو اس پر زکوۃ واجب ہے ۔ (خیر الفتاوی ج؍۳ص۳۵۴) کارخانہ کی زمین ومشین پر زکوۃ سوال: میں نے ایک زمین خرید کر اس پر اپنا کارخانہ تعمیر کرایا ، چنانچہ اس کارخانہ میں میری مشینیں چل رہی ہیں ،اب اس سلسلہ میں مندرجہ سوالات ہیں :