آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کاچھوڑنا جائز ہے یا نہیں؟ الجواب حامدا ومصلیا ومسلما :جان ومال یااہل وعیال کے کسی ممکنہ یقینی خطرہ کی وجہ سے اعتکاف کو چھوڑناجائز ہے ایسی حالت میں ضرورت شدیدہ کی وجہ سے اگر معتکف باہر چلاجائے تو اعتکاف فاسد ہوجائے گا لیکن گنہگار نہ ہوگا تاہم اگر مسجد کے انہدام کی وجہ سے یا جبراً مسجد سے نکالے جانے کی صورت میں فوراً دوسری مسجد میں داخل ہوجائے تو اعتکاف برقرار رہے گا۔ لماقال العلامۃ فخرالدین الزیلعیؒ۔وکد الوخرج للجنازۃ یفسد اعتکافہ وکذالصلوتہا ولوتعینت علیہ اولا نجاء الغریق اوالحریق اوالجہاداذاکان النفیرعاماً اولاداء الشہادۃ کلّ ذلک مفسدبخلاف الخروج لحاجۃ الانسان لانہا معلومۃ الوقوع فتکون مستثناۃولہذالو انہدم المسجد الذی ہوفیہ فانتقل الی مسجد آخر لم یقسد اعتکافہ للضرورۃ لانہ لم یبق مسجداً یعدل ذلک فقات شرطہ وکذالوتفرق اہلہ لعدم الصلوات الخمس فیہ ولواخرجہ ظالم کرہا اوخاف علی نفسہ اومالہ من المکابرین فخرج لایفسد اعتکافہ ۔(تبیین الحقائق ج۱ ص۳۵۱باب الاعتکاف)(۱) (۱) قال العلامۃ الحصکفیؒ۔ولہاما لا یغلب کا نجاء غریق وانہدام مسجد فمسقط للاثم لا للبطلان والا لکان النسیان اولی بعدم الفساد کما حققہ الکمال خلافاً لمافصلہ الزیلعی وغیرہ ۔قال ابن عابدینؒ۔تحت قولہ خلافا لمافصلہ الزیلعیؒحیث جعل الخروج لعیادۃ المریض والجنازۃ وصلوتہا وانجاء الغریق والحریق والجہاد اذاکان التفیر عاماً واداء الشہادۃمفسداً بخلاف خروجہ الی مسجد آخربا نہدام المسجد اوتغرق اہلہ لعدم صلوۃ الخمس فیہ واخراج ظالم کرہا وخوفہ علی نفسہ اومالہ من المکابرین(ردّ المحتار ج۲ ص ۴۴۹ باب الاعتکاف) (فتاوی حقانیہ ج۴؍۲۰۲) اخراجِ ریح کے لیے معتکف کا مسجد سے نکلنا سوال:ظاہرہے کہ مسجد میں ریح نکالنامناسب نہیں کیامعتکف اس کے لیے مسجد سے باہرنکل سکتاہے یا نہیں؟ الجواب حامدا و مصلیا ومسلما :مسجدمیں اخراجِ ریح اگرچہ بالاتفاق مکروہ ہے لیکن طبعی تقاضے کی وجہ سے معتکف کے بارے میں فقہاء کرام کے مختلف اقوال ہیں بعض فقہاء اخراجِ ریح کے لیے مسجد سے نکلناافضل مانتے ہیں جبکہ بعض فقہاء مسجد سے نکلنے کو منع کرتے ہیں اگرچہ سب کے ہاں مسجد ہی میںریح نکالنا مرخص ہے لیکن بہتریہ ہے کہ اخراجِ ریح کے لیے مسجد سے باہر نکلے۔