آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اور وہ شبہ جو آپ نے لکھا ہے : روپیہ جمع شدہ کی زکوۃ دیتے دیتے اگر وہ نصاب سے کم ہوجائے گا تو آئندہ کے لئے اس سے زکوۃساقط ہوجائے گی ۔ اور جب تک نصاب کے بقدر روپیہ موجود ہے تو زکوۃ واجب ہونا خلاف عقل نہیں ہے کیونکہ جو شخص مالک نصاب ہے وہ شرعاً اور عرفاً غنی کہلاتاہے ( الزکوۃ واجبۃ علی الحر العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً تاما وحال علیہ الحول الخ ولا بد من ملک مقدار النصاب لأنہ ﷺ قدر السبب بہ ۔ ہدایہ کتاب الزکوۃ ج۱/۱۶۷) اور غنی کو محتاجوں کی خبر گیری او ران کو اپنے پاس سے کچھ دینا مروت اور عقل کا مقتضی ہے حاشیۃ : اسلام کے اس قانون کی منشا بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ لوگ روپے جمع کرکے بیکار نہ رکھ چھوڑیں بلکہ اسے کاروبار میں یاکھیت وزمین میں لگائے رکھیں تاکہ ملک وقوم کا فائدہ ہو اور زکوۃ بار نہ گزرے ، نقد جمع رکھنے سے ملک اور قوم کا سراسر نقصان ہے، ہدایہ میں زیور کی زکوۃ کے سلسلہ میں لکھا ہے ۔ إن السبب مال نام ودلیل النماء موجود وہو الاعداد للتجارۃ خلقۃ والدلیل ہو المعتبر ۔ ہدایہ کتاب الزکوۃ ج۱/۷۷) جس کا ماحصل یہ ہوا کہ جب اس روپے میں یا سونا چاندی میں نمو اور بڑھنے کی صلاحیت موجود ہے ، اب کوئی اسے روکے رکھے اور جو کام ہے اس سے نہ لے ، تو یہ روکے رکھنے والے کا قصور ہے ، زکوۃ کے وجوب سے سبب زیادتی نہیں ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ج؍۶ص ۳۳۹) سولہویں فصل : روپیہ اور بینک میں جمع شدہ رقم کے متعلق احکامِ زکوۃ بینک میں جمع شدہ روپئے کی زکوۃ سوال : ایک شخص نے آٹھ سال تک آٹھ سور وپئے جمع کئے ہرسال سوروپئے بڑھتے تھے اور زکوۃ ادا نہیں ہوئی ، صرف نوروپئے اداکیئے ہیں ، اور آٹھ سال کے ختم پر سب روپیہ خرچ ہوگیا ، اس صورت میں وہ کس طریقہ سے اور کس قدر روپیہ زکوۃ اداکرے ؟ الجواب : حامداً ومصلّیاً ومسلّماً : اس مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ اس کے ذمہ سالہائے گذشتہ کی زکوۃ لازم ہے ، اور یہ فرض اللہ تعالی کا ہے ، جس وقت روپیہ ہو ایک دفعہ یا چند دفعہ کرکے اس کو پورے کردے ،یعنی خواہ ایک دفعہ سارے اداکردے یا بالتدریج تھوڑے تھوڑے ادا کردے ۔ ((وافتراضہا عمری أی علی التراخی وصححہ الباقانی وغیرہ وقیل فور ی أی واجب علی الفور وعلیہ الفتوی ۔۔الخ فیأثم بتأخیرہا بلا عذر وترد شہادتہ أیضاً ج۲/۱۶، قال فی البدائع وعلیہ عامۃ المشائخ أی فی أی وقت أدی یکون مؤدیا ً للواجب ویتعین ذلک الوقت للوجوب ، إذا لم یؤد إلی آخر عمرہ یتضیق علیہ الوجوب حتی لو لم یؤد حتی مات یأثم ۔ رد