آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(یعنی اگر اس نے عشاء کی نماز جماعت ہونے کے بعد اپنی علیحدہ پڑھ لی ہے ۔ تو وتر کی جماعت میں شامل ہو سکتا ہے ۔اور اگر اس نے نماز عشاء ابھی تک ادا نہیں کی ہے تو پہلے عشاء کی نماز ادا کرے پھر وتر پڑھے ۔ فتاوی محمودیہ ج۱۱ میں ہے لودخل بعد ماصلی الامام الفرض وشرع فی التراویح فانہ یصلی الفرض
اولاوحدہٗ ثم یتابعہ فی التراویح انظر للتفصیل طحطاوی علی الدرج۱؍ص۲۹۷باب الوتر و النوافل
،طبع ٍدارالمعرفۃ بیروت۔)
{پانچواں باب }
اعتکاف کے فضائل ومسائل
{پہلی فصل}
فضائل اعتکاف
رمضان کے آخیری عشرہ میں اعتکاف
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا روایت فرماتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرماتے تھے ‘ وفات ہونے تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول رہا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں اعتکاف کرتی تھیں کیونکہ زمانہ نبوت کی عورتیں نیکی کمانے کی دھن میں کبھی بھی پیچھے نہیں رہتی تھیں ۔رمضان المبارک کی ہر گھڑی اور منٹ و سیکنڈ کو غنیمت جاننا چاہئے جتنا ممکن ہو اس ماہ میں نیک کام کرلو ‘ اور ثواب لوٹ لو ٖ پھر رمضان میں بھی آخری دس دن کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔اعتکاف میں بہت بڑا فائدہ ہے اس میں انسان یکسو ہو کر اپنے اللہ سے لو لگاتے رہتا ہے اور چونکہ رمضان کی آخری دس راتوں میں کوئی رات شب قد ر بھی ہوتی ہے اس لئے اعتکاف کرنے والے کو عموما وہ بھی نصیب ہو جاتی ہے
۔ایسی مسجد میں اعتکاف کریں جس میں پانچوں وقت جماعت سے نماز ہوتی ہو۔
مسجد میں داخل ہو جائے رمضان کی بیسویں تاریخ کا سورج چھپنے سے پہلے عید کا چاند نظر آنے تک اعتکاف کی نیت سے عورتوں کو گھر کی مسجد میں اور مردوں کو پنجوقتہ نماز باجماعت والی مسجد میں اعتکاف کریں جم کے رہنے کو اعتکاف کہتے ہیں ۔ جم کررہنے کا مطلب یہ ہے کہ عید کا چاند نظر آنے تک مسجد ہی کی حد میں رہے البتہ پیشاب پاخانہ کے لئے وہاں سے چلے جانا درست ہے اعتکاف کرے تو ہر وقت مسجد میں رہے وہیں سوئے وہیں کھائے قرآن پڑھے نفلیں پڑھے تسبیحوں میں مشغول رہے جہاں تک ممکن ہو ‘ راتوں کو جاگے اورعبادت کرے خاص کر جن طاق راتوں میں شب قدر کی امید ہو ان راتوں میں شب بیداری کا