آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سے زکوۃ ادا ہوگئی ، اور معطی مستحق ثواب ہوگا ۔ ( ولا یخرج عن العہدۃ بالعزل ، بل بالأداء للفقراء ،، الدر المختار :۲؍۲۷۰، کتاب الزکوۃ )۔
(فتاوی محمودیہ ج؍۱۴ص۱۵۷)
چوری کی ہوئی رقم کو زکوۃ میں شمار کرنے کی نیت
سوال: اگر رقم چوری ہوجائے بعد میں پتہ چل جائے مگر رقم کی ادائے گی سے عاجز ی ظاہر کی توکیا اس رقم کو زکوۃ میں محسوب شمار کیا جاسکتا ہے ؟
الجواب : حامداً ومصلّیاً ومسلّماً : چوری کی ہوئی رقم میں اب زکوۃ کی نیت کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، زکوۃ کے لئے حکم ہے {وآتوا الزکوۃ} اور اس صورت میں إیتاء نہیں پایا گیا ۔ (فلو ضاعت لا
تسقط عنہ الزکوۃ ،، رد المحتار ، کتاب الزکوۃ) فقط واللہ تعالی اعلم ۔
(فتاوی محمودیہ ج۱۴ص۱۵۹)
زکوۃ نہ دینے والے کے مال کو چوری کرکے خیرات کرنا
سوال: عمر بہت مالدار آدمی ہے ، مگر زکوۃ خیرات ادا نہیں کرتا ہے ، زید نے اس کا تمام روپیہ چوری کرکے خیرات کردیا، اس میں عمر اور زید کے لئے شرعی حکم کیا ہے ؟
الجواب : حامداً ومصلّیاً ومسلّماً : عمر ترک ِ فرض کا گناہگار ہے، اور زکوۃ کی ادائے گی اس کے ذمہ
لازم ہے، (الزکوۃ إنما تجب إذا ملک نصاباً تاماً نامیاً حولاً کاملاً ۔۔الخ خلاصۃ الفتاوی:۱؍۱۳۵، کتاب الزکوۃ) اور زید چور ہے ، اگر حکومت اسلامی ہو اور شرعی شہادت سے ثبوت ہوجائے توزیدکا ہاتھ کاٹا جائے ۔ (قال اللہ تعالی : وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَۃُ فَاقْطَعُوْا أَیْدیَہُمَا جَزَآ ًًٔ بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِنَ اللّٰہِ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ } ۔ فقط واللہ سبحانہ وتعالی اعلم (فتاوی محمودیہ ج۱۴ص۴۰۳)
زر ضمانت کی رقم میں زکوٰۃ کا حکم
سوال : آج کل انگریزی قانون کے مطابق کوئی بھی عدالت جب کسی مجرم کو آزاد کرتی ہے تو اس سے زر ضمانت (کچھ نقدر قم ) وصول کرتی ہی جو کہ حکومت کے خزانہ میں جمع ہو تی ہی ، تو ا س رقم کی زکوٰۃ کا کیا حکم
ہے ؟
الجواب : حامداً ومصلّیاً ومسلّماً : زکوٰۃ کے وجوب کیلئے اہم شرط