آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
الشارح تبعا للمصنف فی شرحہ بحمل کلام المتن علی ما اذا لم یصل الی جوفہ لئلا یخالف ما علیہ الاکثر قلت ومن ہذا یعلم حکم من قلع ضرسہ فی رمضان ودخل الدم الی جوفہ فی النہار ولو نائما فیجب علیہ القضاء۔ (الدرالمختار مع ردالمحتار ۲:۱۰۷ قبیل مطلب مہم المفتی فی الوقائع لابدلہ الخ)
{۲} قال الحافظ احمد ملا جیون: وقد یقام السبب الداعی والدلیل مقام المدعو والمدلول … وذلک ای قیام الداعی والدلیل اما لدفع الضرورۃ والعجز کما فی الاستبراء او للاحتیاط کما فی تحریم الدواعی الی الوطی من النظر والقبلۃ واللمس اقیمت مقام الوطی فی الاستبراء وحرمۃ المصاہرۃ والاحرام والظہار والاعتکاف للاحتیاط فہو ایضا مثال لاقامۃ الداعی مقام المدعوا۔ (نور الانوار ۲۸۰ مبحث الاحکام)
(فتاوی فریدیہ ج۴\۱۲۷)
بچہ کو روزہ کی حالت میں لقمہ چبا کر دینا
سوال:بچہ چھوٹا ہے ۔ روٹی چبا کر کھلائی جاتی ہے اس کے بغیر نہیں کھا سکتا ہے۔ ایسی صورت میں بحالت صوم روٹی چباکر اس کی والدہ دے دے تو روزے پر کوئی اثر ہوگا ۔
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً:جب بچہ بغیر لقمہ چبائے نہ کھا سکتا ہو اور کوئی نرم غذا بھی نہ ہو تو لقمہ چبانا مکروہ نہیں ، ہاں بلا ضرورت چبانا مکروہ ہے ۔ اسی طرح خاوند یا مالک یامالکہ ظالم ہوں کھانے میں نمک، مصالحہ کم وبیش ہونے پر خفا ہوتے ہوں ، گالیاں دیتے ہوں تو زبان سے چکھنے سے روزہ میں خرابی نہیں آئے گی ۔ مالابد منہ میں ہے’’چشیدن چیزے یا خائیدن بے ضرورت روزہ مکروہ ات وطعام برائے طفل خائیدن درصورت ضرورت جائز باشد ۔(ص ۹۸) فقط ۔
منھ میں مصنوعی دانت کے سبب روزہ مکروہ نہیں ہو تا
سوال:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص کے دانت ٹوٹ گئے ہیں وہ مصنوعی دانت ہر وقت اپنے مُنہ میں لگائے رہتا ہے ،دانتوں کی ساخت میں سنگ مرمر اور ربڑ ہے یعنی ان ہی دو چیزوں سے مصنوعی دانت بنے ہیں نہ ان میں بوہے نہ مزہ، نہ ان دونوں چیزوں میں سے کوئی چیز پانی میں حل ہونے والی ہے، اب وہ شخص روزہ رکھنا چاہتا ہے تواب سوال یہ ہے کہ اگر روزہ کی حالت میں یہ مصنوعی
دانت منہ میں رہیں توروزہ مکروہ تو نہ ہوگا،جواب باصواب سے اطلاع دیجئے؟
الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً: مکروہ نہ ہوگا۔ (امدادالفتاوی ج۲ ص۱۴۲)
رمضان میں آٹھ دس دفعہ غسل کرنا کیسا ہے
سوال:روزہ میں آٹھ دس دفعہ غسل کرنا کیسا ہے؟