آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سوال: (۲) عشرئہ اخیر رمضان کے اعتکاف مسنون میں جمعہ کے لئے یا تبرید کے لئے غسل کرنے کی غرض سے خروج عن المسجد مفسد اعتکاف ہے یامتمم یا جائز غیر مفسد اور خروج عن المسجد سے مراد احاطہء مسجد ہے یا وہ حصہ جو نماز کے لئے حکم مسجد میں ہے اگر غسل خانہ صدر دروازہ کے اندر ہو تو اس میں غسل کرنا اور باہر غسل کرنا مساوی ہے کیا؟ الجواب حامداًومصلیاًومسلماً: (۱) سنت بقید عشر ہے، جب قید نہیں مقید نہیں اور وہی سنت تھا،پس سنت نہیں اور جزو سنت بحال انفراد کے لئے جزو سنت بحالت اجتماع مع سائرالاجزاء کے حکم میں ہونا لازم نہیں اور نہ ثابت۔ الجواب حامداًومصلیاًومسلماً: (۲) جس یوم کا اعتکاف شروع ہوگیاہے اس کے لئے مفسد ہے، بقیہ ایام کے لئے منہی و متمم ہے البتہ منذور کے لئے مجموعہ کا بھی مفسد اور مسجد وہی موضع ہے جہاں نماز پڑھی جاتی ہے نہ کہ کل احاطہ (تتمہ رابعہ ص۵۵) کسی نے بیماری کی وجہ سے اخیری عشرہ رمضان میں اعتکاف توڑ دیا اب وہ کیا کرے سوال: رمضان شریف کے آخر عشرہ کا اعتکاف کیا درمیان میں بیمار ہو کر اعتکاف توڑ دیا ۔ اب بعد صحت کے اس اعتکاف کی قضاء کر ے یا نہیں؟ اور روزہ بھی قضا کرے یا نہیں ؟ اور بیماری میں پانچ روزے قضاء ہوئے ۔ اعتکاف میں وہ روزہ ادا ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ الجواب حامداً ومصلیا ومسلماً: در مختار میں ہے وشرط الصوم لصحۃ الا ول اتفاقا فقط علی المذھب قولہ لصحۃ الا ول ای النذر شامی ۔ (۱) فلو شرع فی نفلہ ثم قطعہ لا یلزمہ قضائہ لا نہ لا یشترط لہ الصوم علی الظاہر من المذھب الخ اما النفل فلہ الخروج (۲) قولہ اما النفل ای الشامل للسنۃ المئوکدۃ طحطاوی شامی الخ ۔ (۳) ان روایات سے یہ ظاہر ہے کہ اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان کی قضاء لازم نہیں ہوتی۔ علامہ شامی نے محقق ابن ہمام کا اس میں خلاف بھی نقل کیا ہے ۔ لیکن اکثر متون و شروح اسی پر ہیں کہ اعتکاف عشرہ اخیرہ رمضان واجب نہیں ہے اور قضاء سوائے واجب کے لازم نہیں ہوتی اور نفل بھی شروع کرنے سے اگرچہ لازم ہوجاتی ہے مگر اعتکاف میں اسی قدر واجب ہوگا جو اقل نفل ہے ۔ بہر حال مقتضی ان روایات کا یہ ہے کہ اعتکاف کی قضا اور صرف انہیں پانچ روزوں کی قضا لازم ہے جو قضا ہوئے ہیں اور ایک روزہ پہلی تاریخ رمضان کا جو نہیں رکھا گیا اس کی قضا لازم ہے اور اگر اعتکاف کی بھی قضا کرے تو وہ روزہ رمضان کے جو قضا ہوئے ہیں اس میں وہ اعتکاف بھی ہوسکتا ہے ، تو گویا اس صورت میں کل دس روزے رکھے جاویں ۔ چھ روزے قضاء رمضان