آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
وقالا یشبہ بالمصلین ای احتراما للوقت قولہ کالصوم ای فی مثل الحائض اذا طہرت فی رمضان فانہا تمسک تشبہا بالصائم لحرمۃ الشہر الخ، درمختار مع الشامی کراچی ص۲۵۲، ۲۵۳/۱، باب التیمم، مطلب فاقد الطہورین، الفقہ الحنفی وادلتہ للصاغرجیؒ ص۳۸۳/۱، فقہ العبادات، کتاب الصوم، قبیل احکام تتعلق بالمجنون، مطبوعہ دارالفیحاء بیروت، حاشیۃ الشلبی علی ہامش الزیلعی ص۳۳۹/۱، فصل فی العوارض، مطبوعہ امدادیہ ملتان۔ غیرمعتدل ایام علاقوں میں روزہ کاحکم سوال: بعض علاقوں میں ایام غیرمعمولی طول اختیارکرلیتے ہیں جس کی وجہ سے روزہ رکھناانتہائی مشکل ہوجاتاہے مثلاً دن ۲۲،۲۳گھنٹے کاہوجاتاہے یااس سے زائدتوایسی صورت میں روزہ کاکیاحکم ہے؟ الجواب حامدا ومصلیا ومسلما : ایسے علاقوں میں جوحضرات بالکل روزہ کی طاقت نہیں رکھتے اس لیے کہ دن بے حدطویل ہے ، وہ یاتوقضاء کرلیں ،یعنی ابھی نہ رکھیں پھرجب ایام معتدل ہوجائے اس وقت قضاء کرلیں،یااقرب البلاد کے روزوں کے مطابق روزہ رکھ لیں،لیکن اگرروزہ پرقدرت ہوجیسے انگلینڈوغیرہ میں توروزہ رکھناضروری ہے۔ ملاحظہ ہوعلامہ شامی فرماتے ہیں: تتمۃ: لم أرمن تعرض عندنا لحکم صومہم، فیما إذاکان یطلع الفجرعندہم کما تغیب الشمس، أو بعدہ بزمان لا یقدر فیہ الصائم علی أکل ما یقیم بنیتہ، ولا یمکن أن یقال: لوجوب موالاۃ الصوم علیہم، لأنہ یؤدي إلی الہلاک، فإن قلنا: بوجوب الصوم یلزم القول بالتقدیر، وہل یقدر لیلہم بأقرب البلاد إلیہم،کما قالہ الشافعیۃ ہنا أیضاً أم یقدر لہم بما یسع الأکل والشرب، أم یجب علیہم القضاء فقط دون الأداء؟کل محتمل، فلیتأمل، ولایمکن القول ہنا بعدم الوجوب أصلاً ،کالعشاء عند القائل بہ فیہا لأن علۃ عدم الوجوب فیہا عند القائل بہ عدم السبب وفي الصوم قد وجد السبب وہو شہود جزء من الشہر وطلوع فجرکل یوم ، ہذا ما ظہر لي، واللّٰہ تعالیٰ أعلم۔ (فتاوی الشامی:۱/۳۶۶،مطلب فی طلوع الشمس من مغربہا،سعید۔وکذا فی حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار:۱/۱۷۵،کوئتہ)۔ جدیدفقہی مسائل میں ہے: اگراوقات میں غیرمعمولی فرق ہوجائے مثلاً ۲۰،۲۲گھنٹوں کادن ہوجائے اوردوچارگھنٹوں کی رات رہ جائے توبھی قرآن وحدیث کے عمومی احکام کاتقاضا ہے کہ روزہ طلوع فجرسے غروب آفتاب تک ہواوراسی پرفتوی ہے، البتہ چونکہ بسااوقات اس کی وجہ سے غیرمعمولی مشقت پیداہوجائیگی اورعمررسیدہ یاکمزورآدمیوں کے لیے روزہ رکھنادشوارہوجائیگا،ان کویہ خصوصی سہولت دی جاسکتی ہے کہ وہ رمضان المبارک میں روزہ نہ رکھیں اورآئندہ جب موسم ہلکااورقابل تحمل ہوجائے ان کے اوقات نسبۃً کم ہوجائیں توقضاء کرلیں۔