آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کہ اس کو پندرہ میل کا سفر پیدل چلنا ہے روزہ نہیں رکھا جاوے گا اس صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ۔ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: (۱)ا س صورت میں جب کہ اول ہی نیت روزہ کی نہیں کی گئی تھی اور روزہ بھی اس دن نہ رکھا صرف ایک روزہ کی قضا اس کے ذمہ لازم ہے کفارہ لازم نہیں ہے ، البتہ روزہ اس کو رکھنا ضروری اور فرض تھا لیکن جب کہ نہیں رکھا اور نیت نہیں کی توقضا ئً صرف ایک روزہ اس کے ذمہ لازم ہوا ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ج۶/۴۳۳) (۲) وہ عورت جس نے وقت مذکورہ پر سحری کھائی چونکہ اس وقت صبح صادق خوب ہوگئی تھی اس لئے وہ روزہ ا س کا نہیں ہوا قضاء اس روزہ کی اس کے ذمہ لازم ہے اور کفارہ ساقط ہے۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ج۳/۳۴۵) (۳) اور پندرہ میل کا سفر اگرچہ افطار روزہ کو مباح نہیں کرتا لیکن جب کہ نیت روزہ کی نہ کی گئی تھی، تو صرف قضا اس کی لازم ہے کفارہ واجب نہیں ۔ (فتاوی دار العلوم دیوبند ج ۶/۴۴۳) سحری کا مسئلہ سوال: یغیر سحری کے روزہ ہو سکتا ہے ؟ الجواب حامداً و مصلیاً ومسلماً:بغیر سحری کے روزہ ہوجاتا ہے ، البتہ سحری کھانا سنت ہے ، اگر خواہش نہ ہو تب بھی پانی پی کر یا کچھ تھوڑا بہت کھا کر سنت ادا کرلے۔