آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کا مہینہ آگیا ہے‘‘ ’’ ألا إن شہر زکوتکم قد حضر‘‘ (۱) اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ ث زیادہ تراسی ماہ مبارک میں زکوۃ ادا فرمایا کرتے تھے ۔(۱)موطأ إمام مالک ،حدیث نمبر : ۳۲۲۔ (کتاب الفتاوی ج ۳؍۳۱۷) جب یہ پتہ نہ ہو کہ کب سے وہ نصاب والا ہے تو کیا کرے سوال : ایک صاحب کے والد بزرگوار نے انتقال کیا اور اس کے حصہ میں منجملہ اور اشیاء کے کچھ زیور آیا اور اس قدر تھاکہ زکوۃ فرض نہیں تھی ، کچھ روز بعد انھوں نے اور زیور گھڑواکر اس میں شامل کیا ، او رکچھ زیور ان کے بچوں کا اس میں شامل ہوا ، کل ۹۵ تولہ ہوا ، او رٹھیک معلوم نہیں کہ دوسال سے یا چار سال سے یہ ۹۵تولہ ہوا ہے ، تو آیا اب وہ زکوۃ پچھلے سالوں کی بھی ادا کرے یا اسی سال کی؟ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلّماً: گمان غالب کے موافق جس وقت سے وہ زیور ۹۵ تولہ ہوگیاہے اسی وقت سے زکوۃ اس کی ادا کرنی چاہیے ، گزشتہ سالوں کی زکوۃ بھی دی جائے اور گمان غالب سے سوچ لیا جائے یاقرائن سے اندازہ لگایا جائے اور احتیاطاً کچھ زیادہ ہی مدت لگائی جائے ، مثلاً اگر ڈھائی برس کا گمان ہو تو تین سال سمجھ کر تین سال کی زکو ۃ دی جائے علی ہذا القیاس کچھ زیادہ ہوجائے تو بہترہے ، ثواب زیادہ ہے اور کم ہوجانے کی صورت میں خوف عتاب ہے ،اورزکوۃ کل زیور کی جو موجود ہے دی جائے گی بحسا ب ڈھائی روپے سیکڑہ کے ۔ فقط بغیر بتائے ہوئے زکوۃ کے روپئے دیدینا کیسا ہے ؟ سوال: (۱)زید چونکہ غنی ہے اور زکو ۃ ادا کرتا ہے ، لہذا اگر زید اپنے چچازاد بھائی بہن کو جو کہ مفلس اور محتاج ہیں زکوۃ دے او رانکو نہ بتلائے کیونکہ اگر ان کو یہ خبر ہوگئی کہ یہ زکوۃ ہے تو وہ ناراض ہوں گے ، ایسی صورت میں اگر زید ان کو زکوۃ دے اور نہ بتلائے کہ یہ زکوۃ ہے تو زکوۃ کے ادا ہونے میں کوئی کلام تو نہیں ؟ (۲) اور اس زکوۃ کے دینے میں علاوہ ادائے فرض زید کو صلہ رحمی کا بھی ثواب ملے گا یانہیں ؟ (۳) چونکہ زید نے زکوۃ کی خبر انھیں نہیں دی اور قرینہ سے جانتا ہے کہ اگر انھیں معلوم ہوتا تو نہ لیتے یا ناراضگی ظاہر کرتے اس لئے زید پر مواخذہ ہے یانہیں ،زید چونکہ اسی زکوۃ دینے میں رواجاً شرما شرمی صلہ رحمی سے گریز کرنا چاہتاہے ،ا س لئے زید پرمواخذہ شرعی یا کم ازکم ملامت تو نہیں ؟