آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
عَلیٰ ہٰؤلا ِٔ شَہِیْدَاً }تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ تمہارا اتنا سنانا کافی ہے سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کے دیکھا تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھیں آنسو بہا رہی تھیں۔ حضرت عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوا تودیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ مبارک سے رونے کی آواز اسطرح سے آرہی ہے جیساکہ ہانڈی کے کھولنے کی آواز ہوتی ہے ۔ (رواہ احمد فی مسندہ ۴/۲۵) ابو نعیم رحمۃ اللہ علیہ نے حلیۃ الأولیا میں روایت کیاہے کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہنے اپنے گھر کے صحن میں جائے نماز بنارکھی تھی اورجب آپ اس جگہ نماز پڑ ھتے تھے اور نمازمیں قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے تو اتنا روتے تھے کہ مشرکین کی عورتیں اوربچے بھی تعجب کرنے لگتے تھے ،حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کے آنسوہی نہ تھمتے تھے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نمازِ فجر میں قرآن مجید پڑھتے ہوئے بعض مرتبہ اتنا روتے تھے کہ آخری صف تک رونے کی آواز سنائی دیتی تھی ۔ (۲۳) قرآن پاک پرعمل کرنا ۔ قرآن پاک کاحق صرف زبان سے حروف پڑھنے اور سمجھنے سے ادا نہ ہوگا اگر کسی نے اچھی تلاوت کی اور معنی بھی سمجھ لیا لیکن عمل نہ کیا تو قرآن عظیم قیامت کے دن اس پر حجت ہوگا مسلم شریف کی حدیث میں ہے :( القرآن حجۃ لک أو علیک ) یعنی قرآن تمہارے لئے حجت ہے یا تم پر حجت ہے ، مطلب یہ ہے کہ اگر تم قرآن مجید پر عمل کروگے تو وہ تمہارے لئے قیامت کے دن حجت ہوگا تمہاری سفارش کریگا حدیث شریف میں ارشاد ہے : اقرؤو القرآن فإنہ یأتی یوم القیامۃ شفیعاً لأصحابہ ، یعنی : تم قرآن پڑھو کیونکہ قرآن قیامت کے دن اپنے اصحاب کیلئے سفارشی بنکر آئے گا ،یعنی تمہاری شفاعت کراکر جنت میں داخل کراوئے گا۔ نسأل اللہ تعالیٰ ذلک، اور قرآن کریم پر عمل نہ کرنا جہنم کی طرف راستہ ہے ۔العیاذ باللہ (۲۴) ٰیکسو ہوکر تلاوت کرنااور نظر کی حفاظت کرنا تلاوت کرتے وقت ادھر اُدھر نہ دیکھنا ، قرآن کریم میں نظر جمائے رکھنا ، قرآن میں دیکھنا بھی عبادت ہے ،جو قرآن شریف دیکھ کر تلاوت کرتا ہے وہ دو عبادتیں بیک وقت حاصل کرتا ہے ایک قرآن حکیم میں نظر دوسری تلاوت ، اگر کوئی بغیر دیکھے تلاوت کررہا ہے تب بھی ادھر اُدھر نظر نہ ڈالے نظر کی حفاظت کرے خاص کر امرد لڑکوں سے اپنی نظر کو بچائے ، امرد لڑکوں سے نظر کی حفاظت کرنا تو ویسے بھی لازم ہے مگر تلاوت کے وقت تو نظر کی حفاظت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے اگر تلاوت کرتے وقت یا سنتے وقت بھی بد نظری سے باز نہ آیا تو