آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
اس کی حدود وتعینات اور تفصیلی احکام اس وقت آئے ، ورنہ زکوۃ کا مطلق حکم تو یقینا اسلام کے ابتدائی دور میں ہجرت سے کافی پہلے آچکاتھا، ہاں نظام ِ زکوۃ کے تفصیلی مسائل اور حدود وتعینات ہجرت کے بعد آئے اور مرکزی طور پر اس کی تحصیل ِ وصول کا نظام تو سنہ ۸ ھ کے بعد قائم ہوا ۔
(معارف الحدیث ج۴؍۲۴)
زکوۃ کے تین پہلو
زکوۃ میں نیکی اور افادیت کے تین پہلو ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک یہ کہ مومن بندہ جس طرح نماز کے قیام اور رکوع وسجود کے ذریعہ اللہ تعالی کے حضور میں اپنی بندگی اور تذلل ونیاز مندی کا مظاہر ہ جسم وجان اور زبان سے کرتا ہے تاکہ اللہ تعالی کی رضا ورحمت اور اس کاقرب اس کو حاصل ہو اسی طرح زکوۃ ادا کرکے وہ اس کی بارگاہ میں اپنی مالی نذر اسی غرض سے پیش کرتا ہے اور اس بات کا عملی ثبوت دیتا ہے کہ اس کے پاس جو کچھ ہے وہ اسے اپنا نہیں بلکہ اللہ کا سمجھتا اور یقین کرتا ہے ، اور اس کی رضا اور اس کا قرب حاصل کرنے کے لئے وہ اس کو قربان کرتا ہے ۔
زکوۃ کاشمار عبادات میں اسی پہلو سے ہے ، دین وشریعت کی خاص اصطلاح میں ’’ عبادات ،، بندہ کے انہیں اعمال کو کہاجاتا ہے جن کا خاص مقصد وموضوع اللہ تعالی کے حضور میں اپنی عبدیت اور بندگی کے تعلق کو ظاہر کرنا اور اس کے ذریعہ اس کا رحم وکرم اور اس کا قرب ڈھونڈنا ہو ۔
دوسرا پہلو :زکوۃ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس کے ذریعہ اللہ تعالی کے ایسے بندے جو ضرورتمند اور پریشان حال ہو ں ان کی خدمت واعانت ہوتی ہے ، اس پہلو سے زکوۃ اخلاقیات کا نہایت ہی اہم باب ہے ۔
تیسرا پہلو : زکوۃ میں افادیت کا تیسرا پہلو یہ ہے کہ حب مال اور دولت پرستی جو ایک ایمان کش اور نہایت مہلک روحانی بیماری ہے ، زکوۃ اس کا علاج اور اس کے گندے اور زہریلے اثرات سے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کا ذریعہ ہے ، اسی بنا پر قرآن مجید میں ایک جگہ فرمایا ہے۔ { خُذْ مِنْ اَمْوَالِہِمْ صَدَقَۃً تُطَہِّرُہُمْ وَتُزَکِّیْہِمْ بِہَا } (سورۃ التوبۃ؍۱۳) (اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ مسلمانوں کے اموال میں سے صدقات (زکوۃ) وصول کیجیئے ، جس کے ذریعہ ان کے قلوب کی تطہیر اور ان کے نفوس کا تزکیہ ہو ۔
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: { وَسَیُجَنَّبُہَا الْأَتْقَی الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہُ یَتَزَکّٰی } (سورئہ لیل) اور اس آتش دوزخ سے وہ نہایت متقی بندہ دور رکھاجائے گا جو اپنا مال راہ ِ خدا میں اس لئے دیتا ہو کہ اس کی روح اور اس کے دل کو پاکیزگی حاصل ہو۔بلکہ زکوۃ کا نام غالباً اسی پہلو سے زکوۃ رکھا گیا ہے کیونکہ زکوۃ کے اصل معنی ہی پاکیزگی کے ہیں ۔ (معارف الحدیث ج۴؍۱۹۔۲۰)