آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
(الکاشف للطیبی ص ۲۸۲ج ۴) خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کریم کی تلاوت کرنے والا دونوں حالتوں میں اجر عظیم کا مستحق ہے۔ (بشرطیکہ بلند آواز سے پڑھنے کی حالت میں کسی کی نماز یا نیند وغیرہ میں خلل واقع نہ ہواور با آ واز بلند پڑھنے والے کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے علانیہ یعنی کھلے عام صدقہ کرنے والے سے تشبیہ دی ہے کیونکہ اس میں دوسروں کو صدقہ دینے کی ترغیب ہوتی ہے اور اس کا نفع متعدی ہوتا ہے مگر شرط وہی ہے کہ ریا کاری نہ ہو۔ اور آہستہ آواز سے تلاوت کرنے والے کو خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کے ساتھ تشبیہ دی ہے خفیہ طور پر صدقہ کرنے والے کے لئے ایک خاص فضیلت وارد ہوئی ہے کہ وہ اللہ تعالی کے عرش کے سائے تلے ہوگا کیونکہ اس میں ریا کاری کا شائبہ نہیں ہے ۔ واللہ سبحانہ وتعالی اعلم۔ حافظ قرآن پر رشک کرنے کا بیان عن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال لا حسَدَ الا فی الثنتینِ رجلٌ آتاہ اللہ القرآنَ فہو یقُوم بہِ آناء اللیلِ وآناء النہارِ ورجلٌ آتاہُ اللہ مالا فہُو یُنفقہُ آناء اللیلِ وآناء النہارِ (متفق علیہ واللفظ لمسلم) ترجمہ: .4’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رشک صرف دو باتوں اور دو خصلتوں میں ہے ۔ ایک اس شخص کی خصلت وحالت میںجس کو اللہ تعالی نے قرآن مجید کی نعمت عطا فرما رکھی ہواور وہ رات دن اس میں لگا رہتا ہے دوسرے اس شخص کی خصلت وحالت میں جس کو اللہ تعالی نے مال ودولت سے خوب نواز رکھا ہو اور وہ رات دن (اللہ تعالی کر مرضیات ) میں خرچ کرتا رہتا ہے۔ تشریح: حدیث بالا میں حسد سے مراد غبطہ ہے جس کو ترجمہ میں واضح کردیا گیا ہے۔ غبطہ کے معنی رشک کرنے کے ہیں علماء کرام نے حسد اور غبطہ میں بنیادی فرق بیان کیا ہے کہ حسد یہ ہے کہ ایک شخص کسی مسلمان بھائی پر نعمت دیکھ کر یہ آرزو کرے کہ یہ نعمت اس سے چھین لی جائے اور مجھے مل جائے یہ شرعا مذموم وحرام ہے اور غبطہ یہ ہے کہ ایک شخص یہ تمنا کرے کہ اس مسلمان بھائی کے پاس جو نعمت ہے اس کے پاس باقی رہتے ہوئے مجھے بھی ویسی مل جائے تو یہ تمنا کرنا جائز ہے بشرطیکہ اس میں کوئی غیر شرعی بات نہ اور ایسی چیزوں میں رشک کرنا جو کار خیر ہوں قابل ستائش ہے اور باعث اجر وثواب ہے اور حدیث بالا میں جو دو خصلتیں بیان کی گئی ہیں ان کے بارے میں رشک کرنا تو نہایت ہی قابل سائش ہے:’’لا غبطۃ اعظم وافضلُ من الغبطۃ فی ہاتین الخصلتین‘‘۔ ترجمہ: یعنی کوئی رشک ایسا نہیں جو ان دو باتوں سے زیادہ عظیم وافضل واعلی ہو پس یہی دوباتیں سب سے زیادہ قابلِ رشک ہیں۔ فائدہ: حدیث بالا میں قیام بالقرآن سے مراد قرآن پاک میں لگے رہناہے یعنی اس کی خدمت میں مشغول رہنا چاہئے وہ کسی بھی نوعیت کی ہوچناچہ اس میں نماز وغیرہ