آئینہ رمضان - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
سوال: عورت کہا ںاعتکا ف کرے؟ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: اپنے گھر میں جس جگہ نماز پڑھتی ہو اعتکاف کی نیت کرکے اسی جگہ پر ہر وقت رہا کرے پاخانہ پیشاب کے علاوہ اور کسی کام کے لئے اس جگہ سے اٹھ کر مکان کے صحن یا کسی اور دوسرے حصہ میں نہ جائے اور گھر میںنماز کی کوئی خاص جگہ مقرر نہ ہوتو اعتکاف شروع کرنے سے پہلے ایسی جگہ بنالے اور پھر اس جگہ اعتکاف کرے ۔ (شامی ۳۸۱ج۳و بدائع ص ۲۸۱ج۲) سوال: صرف مسجد میں ٹھہرے رہنا کیوں عبادت ہے؟ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: جب کہ انسان اپنا سیر تماشا چلنا پھرنا کام کاج چھوڑ کر مسجد میں ٹھہرا رہے اور اس ٹھہرے رہنے سے خدا تعالیٰ کی رضا مندی مقصود ہو تو اس کا عبادت ہونا ظاہر ہے (تعلیم الاسلام ( سوال: اعتکاف کے کیا فائدے ہیں؟ الجواب حامداً ومصلیاً ومسلماً: اعتکاف میں بہت سے فائدے ہیں چند ایک یہ ہیں۔ ۱۔ اعتکاف کرنے والا گویا اپنے تمام بدن اور تمام وقت کو خدا کی عبادت کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ ۲۔ دنیا کے جھگڑوں اور بہت سے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے۔ ۳۔ اعتکاف کی حالت میں اسے ہر وقت نماز کا ثواب ملتا ہے کیونکہ اعتکاف سے اصل مقصود یہی ہے کہ معتکف ہر وقت نماز اور جماعت کے انتظار اور اشتیاق میں بیٹھا رہے۔ ۴۔ اعتکاف کی حالت میں معتکف فرشتوں کی مشابہت پیدا کرتا ہے کہ ان کی طرح ہر وقت عبادت اور تسبیح و تقدیس میں رہتا ہے ۔ ۵۔ مسجد چونکہ خدا تعالیٰ کا گھر ہے اس لئے حالت اعتکاف میں معتکف خدا تعالیٰ کا پڑوسی بلکہ اس کے گھرکا مہمان ہوتا ہے ۔ (المبسوط للسرخسی ص ۱۱۶ج۱ وبدائع ص۲۷۳ج ۲) پس اعتکاف کرنے والا اگر چہ قول کی زبان سے کچھ نہیں کہتا لیکن زبان حال سے یہ کہتا ہے کہ میں اپنے مولا کے دروازے پر ہمیشہ کھڑا رہوں گا اور اپنے تمام مقاصد حاصل ہونے مصیبتوں کے دور ہونے اور اس کا قرب حاصل ہونے کا سوال کرتا رہوں گا۔ اور اس کے لئے اپنے عزیز بھائیوں بلکہ اصلی قرابت داروں سے الگ رہوں گا یہاں تک کہ وہ میرے گناہوں کو بخش دے جو کہ اللہ تعالیٰ سے میری دوری اور مصیبتوں کے نازل ہونے کا سبب ہیں پھر وہ اپنے احسانات مجھ پر جاری فرمائے جو اس کی شان کریمی کے شایاں ہیں اور مجھ کو ایسی عزت بخشے جو اس کی حفاظت کے ٹھکانے اور اس کی حرمت کی حمایت کی طرف التجا کرنے