حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
یہاں باہمی تعاون کے جذبے سے ایک مسافر خانہ قائم کیا ہوا ہے جس کے ساتھ مسجد بھی ہے اور یہیں ایک ابتدائی دینی مدرسہ کے قیام کا بھی عرصہ سے عزم تھا مگر اس ارادہ کی تکمیل حضرت والا کی آمد کے انتظار میں رکی ہوئی تھی کیوں کہ ہم سب خدام کا یہ مشترکہ اور قلبی جذبہ تھا کہ اس مسجد و مدرسہ کی بنیاد حضرت والا کے بابرکت ہاتھوں سے رکھی جائے، خدا کے فضل و کرم سے اب اُس عزم کی تکمیل کا وقت آگیاہے۔یہاں کے مسلمانوں کے دینی جذبات اور مذہبی شغف کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس جزیرہ کے تقریباً ہر ہر شہر میں ایک ایک خوشنما اور کشادہ مسجد موجود ہے جو پانچوں وقت مقامی مسلمانوں کی تکبیرات سے گونجتی ہیں ۔ مگر ان تمام اطمینان بخش حقائق کے باوجود یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہمیں صحیح اور مخلصانہ دینی رہنمائی کی ضرورت تھی، موجودہ ماحول اور دقت کے بدلتے ہوئے تقاضوں سے ہمارے نوجوان بھی محفوظ نہیں ۔ ضرورت تھی کہ ایسا مربی اور شفیق عالم و رہنما یہاں آئے جس کے مواعظ و نصائح اور پند و ہدایت ہمارے قلب و جگر کو گرما دیں اور ہمیں ایسی ایمانی تازگی دے جائیں جو دنیا اور آخرت کے ہر گام پر ہماری معاون و دستگیر ہو۔ خدائے قدوس کا بہ ہزار زبان شکر ہے کہ اُس نے ہماری ناکارہ دعائیں قبول فرمائیں اور ہماری رشد و ہدایت اور اصلاح کے لئے حضرتِ والا کی ہر دل عزیز و عظیم ذات کو منتخب فرمایا۔ ہماری آرزو ہے کہ حضرت والا کے اس جزیرہ میں مختصر سے قیام کے دوران ہم خدام زیادہ سے زیادہ مستفید ہوں اور اپنی دنیا و آخرت کے صحیح راستے متعین کر سکیں ۔ آج حضرت اقدس کے استقبال اور ذاتِ گرامی کو خوش آمدید کہنے کے لئے دارالحکومت سینٹ ڈینس میں پورے جزیرہ رے یونین کے تمام مسلمان جمع ہیں اور اپنے دیرینہ شوقِ زیارت کو پورا کر رہے ہیں ۔ ہمارا پروگرام یہ ہے کہ حضرت اقدس کے اس ماہ کے قیام میں جزیرہ کے ہر شہر کی مسجد میں حضرت کی وعظ و تقریر کا موقع فراہم ہوسکے اور ہر تقریر میں انشاء اللہ پورے جزیرہ کے لوگ شرکت کے لئے حاضر خدمت ہوا کریں گے۔ چوں کہ اصل داعی جناب پٹیل صاحب اور ان کا خاندان دارالحکومت سے تقریباً ساٹھ میل دور شہر سینٹ پیر میں مقیم ہے اس لئے حضرت والا کا اصل قیام وہیں رہے گا۔ مختلف شہروں کے تبلیغی دورے وہیں سے ہوں گے اور ہر دورے سے مراجعت وہیں ہوا کرے گی۔ اگر چہ ہ کوشش کریں گے کہ ہمارا کوئی پروگرام حضرت اقدس کے لئے باعث تعب و تکان نہ ہو مگر اس کے باوجود بھی اس مختصر قیام میں تمام مسلمانانِ جزیرہ کا شوق و اشتیاق دیکھتے ہوئے ایک ماہ کا جو پروگرام ترتیب کیا ہے اس سے اگر تعب محسوس فرمائیں تو ہم