حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
پرکھڑی ہوئی چیز ایک ہی ہے، مگر ہر وطن میں پہنچ کر اس نے لباس اختیار کیا، چیز ایک ہی ہے مگر وطنوں کے بدلنے سے لباس بدلتا رہا، ذہن میں تھی تو وہاں نہ روشنائی تھی نہ کاغذ تھا، کاغذ پر آئی تو وہاں نہ اینٹ تھی نہ پتھر تھا، زمین پر آئی تو وہاں مادی چیز تھی، غرض ہر جگہ اس وطن کے مناسب یہ کوٹھی لباس اختیا کرتی رہی‘‘۔(۵۷)انسانی دل ایک عجیب کائنات ہے انسانی دل کی ماہیت و آثار و کیفیات کی عارفانہ منظر کشی، ملاحظہ کیجئے: ’’قلب کو ایک عجیب کائنات بنایا اللہ تعالیٰ نے، اس قلب کے اندر محققین لکھتے ہیں کہ دو دروازے ہیں قلب کے ایک نیچے کی طرف کھڑکی کھلی ہوئی ہے، قلب میں اوپر کی طرف، اوپر کی کھڑکی کھلتی ہے تو عالم غیب کے مشاہدات کرتا ہے۔ وحی اور الہام ربانی اور جمالات اور کمالاتِ خداوندی کو دیکھتا ہے، عالم غیب منکشف ہوتا ہے اور نیچے کی کھڑکی سے دیکھتا ہے تومحسوسات نظر پڑتے ہیں ، دریا اور پہاڑ اور جنگل تو محسوسات کو نیچے کے سوراخ سے دیکھتا ہے اور مغیبات کو اوپرکے سوراخ سے دیکھتا ہے،قلب ایک ہی ہے لیکن اس میں بینائیاں دو قسم کی رکھیں ، ایک اوپر کے دیکھنے کی، ایک نیچے کی دیکھنے کی۔ ایک ظاہری چیزیں دیکھنے کی، ایک باطنی چیزیں دیکھنے کی، ظاہری چیزوں کے دیکھنے کے لئے آلات بنائے، قلب کے لئے آنکھ بنائی تاکہ شکلیں اور صورتیں دیکھے، کان بنائے تاکہ آوازوں کو سنے، زبانیں دیں تاکہ ذائقوں کو چکھیں ، ناک دی تاکہ خوشبو اور بدبو کو سونگھے، تو شئے کی صورت بھی دیکھتا ہے انسان شئے کی خوشبو ، بدبو کا بھی ادراک کرتا ہے،شئے کی آوازیں بھی سنتا ہے۔ آوازیں سن کر بچائو بھی کرتا ہے۔ اپنے کام بھی نکالتا ہے، اگر شیرکی دہاڑ سنی تو بچنے کی کوشش کرتا ہے تو کان ذریعہ بنتے ہیں بچنے کا اور اگر آواز سن لی کسی اچھے خوشنما پرندے کی تو پکڑنے کی کوشش کرتا ہے کہ گھرکی زینت بنائوں گا تو کان ذریعہ بنا منافع حاصل کرنے کا بھی اور مضار یعنی مضرتوں سے بچنے کا بھی۔ اسی طرح سے آنکھ ذریعہ بنتی ہے چیزوں کے لینے کا بھی اور چیزوں سے بچنے کا بھی۔ اگر صورت دیکھ لے سانپ کی تو بھاگتا ہے آدمی، اگر صورت دیکھ لی کسی اچھے، خوشنما پتھر کی، سونے چاندی کی دوڑتا ہے اس کے اٹھانے کے لئے، اگر آنکھ نہ ہوتی تو نفع حاصل کرسکتا نہ مضرت سے بچ سکتا تو آنکھ کو اللہ تعالیٰ نے ذریعہ بنایا دور سے دیکھ کر منافع حاصل کرنے کا اور مضرتوں سے بچنے کا،بہت سی چیزیں ایسی ہیں کہ سامنے نہیں ہیں ، ان کی آواز بھی نہیں آتی، لیکن ان کی بدبو اور خوشبو سے سمجھ لیتا ہے کہ یہاں فلاں چیز موجود ہے۔ شیرکے منہ میں بدبو ہوتی ہے، اگر وہ سامنے بھی نہیں تو اس کے منہ کی بدبو دور تک سونگھ سکتا ہے آدمی، سمجھ لیتا ہے کہ یہاں شیرموجود ہے بھاگتا ہے، وہاں سے اور اگر دوسرا جانور ہے اس کی بو آئی اور وہ استعمال کا ہے تو