حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒنے حضرت حکیم الاسلام ؒکی آمد پر خوش آمدید فرمایا، غرض حضرت کو ہندوستان واپس لانے میں میرا اور مولانا حفظ الرحمن صاحب کے علاوہ کسی کی جدوجہد کو دخل نہیں تھا۔ خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کی اس وضاحت کے بعد حکیم الاسلامؒ کی پاکستان سے واپسی کے بارے میں جو کہانیاں عوام و خواص میں ایک خاص مقصد اور مصلحت کے پیش نظر مشہور کی گئیں وہ قطعاً بے حقیقت اور خود ساختہ ہوجاتی ہیں ۔ فتدبّرروئیدادِ سفر کشمیر بخامۂ عنبر شمامہ حضرت حکیم الاسلامؒ حکیم الاسلامؒ نے ۱۹۷۳ء میں وادیٔ کشمیر کا سفر فرمایا، جس کی روئیداد حضرتؒنے اپنے قلم سے یوں تحریر فرمائی: ’’اوائل جون ۷۳ء میں عالی جناب حاجی حافظ انور الاسلام صاحب مالک ’’برش فیکٹری سہارنپور‘‘ کے ایک دیرینہ منصوبہ کے تحت سفر کشمیر کا اچانک پروگرام بنا۔ ۱۳؍ جون ۷۳ء کو حافظ صاحب ممدوح کی ذاتی کاروں سے روانگی عمل میں آئی اور ۱۵ سے ۲۵؍ جون ۷۳ء تک کشمیر کے دارالحکومت سری نگر میں قیام رہا۔ رفقاء سفر میں حضرت مولانا سید فخرالدین صاحبؒ صدرالمدرسین دارالعلوم دیوبند اور محترم قاری عبدالرحمن صاحبؒ سابق امام جامع مسجد سہارنپور، خاص طور پر قابل ذکر ہیں جن کی وجہ سے یہ سفر باغ وبہار بنا رہا، بالخصوص قاری صاحب ممدوح کی بذلہ سنجیوں کی بدولت اس کی بہار، بہار کشمیر سے کم نہیں رہی اور جناب حافظ صاحب ممدوح تو امیر سفر بلکہ سربراہ سفر تھے، جن کی مدارات، مہمان نوازی اور فراخدلی کے ساتھ مسافر نوازی تمام شکریوں سے بالا تر ہے۔ گو سری نگر میں چھوٹے بڑے اجتماعات بھی ہوتے رہے، تقریریں بھی ہوتی رہیں ، دعوتوں کاسلسلہ بھی جاری رہا لیکن ذاتی کاریں ساتھ ہونے کی وجہ سے سیرو سیاحت میں کوئی فرق نہیں پڑا بلکہ رات دن کشمیر کی گلگشت ہوتی رہی جس سے کشمیر کی کوئی قابل ذکرسیرگاہ یا حسین وجمیل سبزی ایسی نہیں رہی جس میں گزر نہ ہوا ہو۔ کشمیر کے مناظر جمیلہ اور قدرتی سبزہ زار، کوہسار، آبشار اور مرغزار وغیرہ آنکھوں کے راستہ سے دل میں اترتے رہے اور بلاکسی سابقہ تصور یا خیال کے محض جذباتی طور پر دل سے نکل کر کاغذ کی سطح پر بھی آتے رہے اور عجیب تر یہ کہ نظم کا روپ بھی اختیار کرتے رہے اور وہ بھی اس طرح کے مناظر قدرت کو دیکھتا جاتا تھا اور کارہی میں بیٹھے بیٹھے کرم کانٹے کھینچتا جاتا تھا۔