حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
مسلما نوں کی خدمت نہیں بلکہ پو رے ملک اور دنیا کی خدمت ہے۔ آج دنیا میں ما دیت کے فر وغ سے بے چینی پھیلی ہو ئی ہے ، دلو ں کا اطمینان اور چین مفقود ہے ، اس کا صحیح علا ج رو حا نیت ہے ، میں دیکھتا ہو ں کہ سکو ن اور اطمینا ن کا وہ سامان یہاں کے بزرگ دنیا کے لئے مہیا فر ما رہے ہیں ، میں سمجھتا ہو ں کہ اگر خد ا کو اس دنیا کو رکھنا منظور ہے تو دنیا کو با لا ٓخر اسی لا ئن پر آنا ہے اس لئے دارالعلوم کے بز رگ جو اہم علمی خدمت انجا م دے رہے ہیں وہ آگے بڑھے گی اور کا م اسی طر ح جا ری رہے گا میں دارالعلوم میں آکر بہت زیا دہ مسرور ہو ا اور یہاں سے کچھ لیکر جا رہاہوں ، میں تما م ذمہ داران دارالعلوم کا شکر یہ ادا کر تا ہو ں ۔‘‘ حضرت مہتمم صا حبؒ نے صدر جمہو ریہ ہند کی نسبت اپنے تا ثرات کا حسب ذیل الفا ظ میں اظہا ر فر ما یا : ’’صدر جمہو ریہ ٔہند کو میں نے نہ صرف ایک عظیم عہدے کا پر وقا ر مسند نشین دیکھا ، بلکہ انھیں ایک نہایت ہی صو فی منش اور بز رگا نہ انداز کا مشفق اور پا بند مذ ہب و اخلا ق انسان بھی پا یا ۔‘‘بین الا قوامی سیرت کا نفر نس میں شرکت حضرت حکیم الاسلامؒ اسی سال پاکستان کی بین الاقوامی سیرت کانفرنس میں شرکت کے لیے پاکستان تشریف لے گئے۔ جہاں دنیائے اسلام کی نامور شخصیتوں نے کانفرنس میں شرکت کی۔ حضرت مہتمم صاحبؒ نے سیرت کے موضوع پر ایک زبردست تقریر فرمائی۔ جس سے عوام و حکام بیحد متاثر ہوئے۔ سیرت کانفرنس کے اختتامی اجلاس میں سیرت کمیٹی کی طرف سے حضرت مہتمم صاحبؒ کو چاندی کے منقش خول میں جو ایک مخملی بکس کے اندر تھا۔ ایک سپاسنامہ پیش کیا گیا تھا۔ جس میں دارالعلوم دیوبند کی اور حکیم الاسلام ؒ کی دینی علمی اور اصلاحی خدمات کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے وضاحت کے ساتھ یہ بات کہی گئی تھی کہ ’’یوں تو تمام پاکستان ہی مہمانوں کا شکرگذار ہے لیکن اہل پاکستان کو سب سے زیادہ دو شخصیتوں نے متاثر کیا ہے۔ ایک حرم مکہ کے مہمان شیخ عبد اللہ بن السبیل اور دوسرے حکیم الاسلام حضرت مولانا محمدطیب صاحب شیخ الجامعہ دارالعلوم دیوبندنے۔‘‘ اس کے بعد حضرت مہتمم صاحبؒ نے ساٹھ ستر ہزار کے عظیم اجتماع سے خطاب فرمایا۔ کانفرنس کے بعد حکومت کی طرف سے آپ کے اعزاز میں ایک پر تکلف دعوت دی گئی۔اس سفر میں کراچی، لاہور، راولپنڈی اور پاکستان کے دوسرے شہروں میں عظیم اجتماعات سے بھی خطاب فرمایا۔