حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
مولانا محمد ازہر صاحب، مہتمم مدرسہ حسینیہ ، حسین آباد کڈرو رانچی بہار : محترم المقام زید مجدکم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ بحمد للہ بعافیت ہوں ۔ امید ہے کہ مزاج گرامی بخیر ہوگا حادثہ جانکاہ حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب ؒ کی رحلت کی خبر ممبئی میں ملی دل پر بڑا گہرا صدمہ ہوا سننے کے بعد چند لمحے تک ذہن سن سا ہوکر رہ گیا تھا ۔میں نے اسی وقت تہیہ کرلیا تھا کہ مدرسہ پہنچ کر تعزیتی جلسہ اور تمام طلبہ واساتذہ سے مل کر ختم کلام پاک اور دعاء مغفرت اور ایصال ثواب کروں گا ۔ ۱۸؍شوال کو مدرسہ آیا داخلہ شروع ہوگیا اب ۲۹؍شوال ۱۴۰۳ھ کو مدرسہ میں قرآن خوانی ہوئی تقریبا ایک سودوختم کلام پاک پڑھے گئے پھر تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا مرحوم کی روح پاک کو ایصال ثواب اور دعاء مغفرت کی اللہ تعالی قبول فرمائے آمین ثم آمین ۔حضرت حکیم الاسلامؒ کی بال بال مغفرت فرمائے انکی قبر کو اپنے انوار سے بھر دے جوار رحمت میں جگہ دے۔ حضرت آقا B کا قرب نصیب فرمائے ۔پسماندگان کو خصوصا سارے عالم عموما صبر جمیل کی توفیق بخشے۔ ان کے مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے ۔آپ کو آپ کے متعلقین کو مرحوم ومغفور کے حق صدقہ جاریہ بنائے آمین ثم آمین ۔ ہم تمام لوگ آپ کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔پرسان احوال ودیگر متعلقین اور بچوں سے سلام مسنون عرض ہے اور دعا ء کی درخواست ہے ۔ ……v……