حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
آپ کی پوری زندگی سفروں میں گذری، اگر کبھی دو چار دن گھر پر رہنے کا موقع ملتا تو اس میں بھی سارا وقت مطالعہ اور تحریر و تصنیف میں گذر جاتا، آپ کا کمرہ علیحدہ تھا، جس میں فرش پر تھوڑے حصے میں دری بچھی ہوئی تھی، سامنے ڈیسک اور گرد و پیش میں کتابوں کاایک انبار ہوتا، حسب ضرورت کتابیں بدلتی رہتیں ، دن بھر تویہ لکھنے کا سلسلہ رہتا، البتہ دوپہر کو آرام کے لئے اور نماز ظہر سے واپس آکر پھر وہی مشغولیت شروع ہوجاتی، جس میں ایسے منہمک ہوتے کہ دوپہر اور رات کو بار بار آکر عرض کیا جاتا کہ ابا جی کھانا تیار ہے تو جواب ملتا کہ سطر پوری کرکے آتا ہوں مگر اس کو پوری کرتے کرتے بھول جاتے کہ کھانے کے لئے اٹھنا ہے۔ اکثر بار باریاد دہانی کرنے پر زچ ہو کر فرمادیتے کہ ابھی بھوک نہیں ہے، گویا کھانا پینا غیرضروری تھا اور اصل واہم مشغولیت صرف تحریر و تصنیف کی تھی۔(۷۸) حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحبؒفرماتے ہیں : ’’تحریر کے لئے قلم اٹھاتے تو نکتہ آفرینیوں کا مرقع تیار کرتے، لکھنے لکھانے میں نہ جہاز کے ہچکولے مانع ہوتے، نہ ریل کی گھڑگھڑاہٹ اور اس کے جھٹکے، مجلس شوریٰ کے بقراط و سقراط چھوٹے چھوٹے مسئلہ کو جذرِ اصم بناتے تو حکیم الاسلامؒ قرطاس و قلم کی کائنات میں گم ہوجاتے۔ میں نے خود ایک دن دیکھا کہ مولانا سعید احمد اکبرآبادیؒ ان کے شغل کو حیرت سے دیکھ رہے ہیں ، غالباً وہ سوچ رہے تھے کہ ہمیں لکھنے لکھانے کے لئے خلوت درکار، یکسوئی مطلوب اور اس شخص کو نہ تنہائی کی ضرورت، نہ بے چیخ و پکار کی فضا کی۔(۷۹) حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحبؒ کی گراں قدر تصانیف کے علمی و تحقیقی معیار کا اندازہ کرنے کے لئے چند اقتباسات نذر قارئین کئے جارہے ہیں :قابلِ تبلیغ صرف علمِ الٰہی ہے ’’بہر صورت تبلیغی چیز صرف علمِ الٰہی نکلا جسے علم شرعی کہا جاتا ہے اور اس لئے یہ واضح ہو گیا کہ دعوتی پروگرام کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہونی چاہئے کہ وہ خدا کی طرف سے ہو، مخلوقاتی دائرہ کی چیز نہ ہو کہ مخلوق کی طرف سے جو علم و فن بھی ہوگا وہ محض طبعیاتی یا عقلیاتی دائرہ کا ہوگا جس کی تبلیغ کا انسان محتاج نہیں ۔ اسی کو دوسرے لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ دعوتی پروگرام کی اولین خصوصیت تشریعیت ہونی چاہئے، کہ وہ منجانب خلق نہ ہواور ظاہر بات ہے کہ من جانب اللہ جو چیز منتقل ہوتی ہے وہ علم وہدایت ہی ہے، اس لئے دعوتی پروگرام کے سلسلہ میں داعی اور مبلغ کا مقاصد ِتبلیغ کے حق میں عالم اور باخبر ہونا ضروری