حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
قدراتِ الٰہیہ جہانِ فانی کے کل کوائف اُسی کی قدرت کے ہیں لطائف اُسی کی رحمت سے کوئی غافل، اُسی کی عظمت سے کوئی خائف حکیم الاسلامؒ کے عہد اہتمام کی مثالی ترقیات، انقلاب آفریں خدمات اور زریں کارناموں کے ضمن میں وہ تمام سوانح، حوادث اور مشکلات بھی آپ کی حیاتِ مبارکہ کا حصہ ہیں جن سے ہر دور کی بہ عزیمت، تاریخ ساز اور انقلابی شخصیات کو گزرنا پڑا، اجلاس صد سالہ کے بعد احاطہ دارالعلوم میں جو ناخوشگوار سانحہ پیش آیا وہ ہرطرح افسوس ناک و المناک تھا کہ اس سے دارالعلوم کی شاندار ماضی پر حرف آیا،علماء دیوبند کا وقار مجروح ہوا، ملت میں انتشار اور تشتت نے جنم لیا اور خود مسلک دیوبند بدنام ہوا۔ ایسی ایسی ثقہ باعتبار اور قدآور دینی شخصیات پر سے عامۃ الناس کا اعتماد اٹھا جن کی زبان سے نکلا ہوا ایک حرف شرعی امور میں ملت اسلامیہ ہند کے لئے حرفِ آخر اور ان کا ایک اشارہ حکم آخر کا درجہ رکھتا تھا۔ ان کے تقویٰ، طہارت، زہد و قناعت، دیانت و امانت، خداترسی اور خداپرستی کی لوگ قسم کھاتے تھے۔ ان کا اتحاد مثالی، اعتدال ضرب المثل اور ادب و احترام کی روایتیں زبان زد خاص و عام تھیں ، ان کے اخلاص و ایثار، بے نفسی اور خوف خشیت کو خیرالقرون کے اخیار و ابرار کے اخلاص و للہیت سے ملایا جاتا تھا۔ ان کی سیرت و کردار کے آئینے میں اسوۂ رسول B کی جھلکیاں ، اصحابِ رسولؐ کی پاکیزہ سیرتوں کا مشاہدہ ہوتا تھا، اس نقطہ نظر سے یہ سانحہ اپنی ذات میں ملت کے لئے واقعی ایک سانحہ کبریٰ تھا مگر اس زاویۂ نگاہ سے دیکھا جائے کہ یہ سانحہ حکیم الاسلامؒ جیسی باعزیمت شخصیت کی قوتِ ایمانی، صبرو تحمل اور عزیمت و استقامت کا ایک امتحان تھا، جس میں آپ نہ صرف ثابت قدم رہے بلکہ ایک مثالی کردار کا مظاہرہ کیا۔وسعتِ ظرفی اور خاندانی شرافت کی ایک اعلیٰ مثال دارالعلوم دیوبند اپنے مثالی نظامِ تعلیم، اعلیٰ اصول، پاکیزہ نصب العین، صالح فکر اور تعمیری افکار کے