حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تاسیس اور صدارت ہندوستان ایک تہذیبی رنگانگی، لسانی بوقلمونی اور مختلف مذہبی نظریات اور عقائد کی سرزمین ہے، ایک جمہوری اور سیکولر ملک ہونے کے ناطہ جو قانونی حقوق اپنے مذہبی افکار کی ترویج اور تہذیبی اقدار کی پابندی کے یہاں کی غالب اکثریت اور دوسری اقلیتوں کو حاصل ہے وہ مسلمانوں کو بھی حاصل ہے مگر افسوس کہ آزادی کے بعد سے اب تک مسلمان نہ صرف اپنے بعض جائز شہری حقوق سے محروم ہیں بلکہ بعض اوقات مذہبی افکار اور تہذیبی قدروں کی پابندی و ترویج کی راہ میں روڑے اٹکانے کی مذموم کوششیں بھی سامنے آتی رہتی ہیں ، جس میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے بجائے یکساں سول کوڈ کے جبراً نفاذ کا مطالبہ سرِفہرست رہتا ہے۔ غیر مسلم ابنائے وطن جو غالب اکثریت کی حیثیت رکھتے ہیں ان میں کچھ شدت پسند عناصر ہمیشہ سے ’’ہندوتو‘‘کا نعرہ بلند کرتے رہے ہیں اورپورے ہندوستان کو اسی رنگ میں رنگنے کی فکر میں رہتے ہیں ۔ تقسیم ہند کے بعد مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے پاکستان کا راستہ لیا، جو درحقیقت فرقہ پسند عناصر کی دیرینہ آرزو کے عین مطابق تھا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمان اور زیادہ اقلیت میں آگئے اور فرقہ پرستوں کو کُھل کھیلنے کا سنہری موقع ہاتھ آگیا۔ اس فضا میں فرقہ وارانہ فسادات کے ساتھ مذہبی منافرت کی تخم ریزی اور یکساں سول کوڈ کے انتہائی مہمل مطالبہ نے زورپکڑا، اہل اسلام کے لئے یہ بڑا نازک مرحلہ تھا، جس کے لئے عامۃالمسلمین کی صدائے احتجاج کوئی مفید نتیجہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی، اس وقت اگر کوئی قدم زور دار اور بارآور نتیجہ پیدا کرسکتا تھا تو وہ صرف علماء ہی کا ہوسکتا تھا۔ کیوں کہ معاملہ محض ایک معاشرتی اور تہذیبی بگاڑ کے امکانات ہی کا نہیں تھا، عقیدہ و فکر کے بگاڑ کا بھی تھا۔ جس کا صحیح ادراک علماء ہی کر سکتے تھے اورعلماء میں بھی بالخصوص وہ طبقہ جو اپنی علمی صلاحیتوں کے ساتھ قائدانہ بصیرت سے متصف ہوتا، ان حالات میں حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب نوراللہ مرقدہٗ نے ہندوستان کے ہر طبقہ فکر کے چیدہ علماء کو اعتماد میں لے کر مسلم پرسنل لاء بورڈ کی تشکیل کا عہد آفریں کارنامہ انجام دیا اور اس کے مؤسس ہونے کے ساتھ تاحیات اس کے صدر بھی رہے۔ ذیل میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تعارف، اس کی ضرورت، کردار اور دائرۂ کار کے سلسلہ میں حضرت حکیم الاسلامؒ کے خطبہ کا صرف ایک اقتباس بطور نمونہ ملاحظہ کیجئے: ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: