حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
تقریظ مولانا سید احمدخضر شاہ مسعودی شیخ الحدیث دارالعلوم وقف دیوبند حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحب قدس سرہٗ کی شخصیت علم و کمال کی ایک انجمن تھی، اسی شخصیت کے حالات زندگی کو ایک خاص سلیقہ اور ترتیب سے کے ساتھ پیش کرنا واقعی بڑا اہم کام تھا اور شاید اسی لئے اس میں تاخیر بھی ہوئی۔ میرے والد مرحوم حضرت مولانا سید محمد انظر شاہ صاحب کشمیریؒ اکثر فرمایا کرتے تھے کہ ’’کاش حضرت حکیم الاسلامؒ اپنی سوانح حیات اپنے قلم سے ہی مرتب فرمادیتے تو علم و تحقیق اور حکمت و معرفت کی ایک نئی کائنات سامنے آجاتی۔‘‘ یہ حقیقت بھی ہے کہ حکیم الاسلامؒ اپنی سوانح حیات خود لکھتے تو حکمت قاسمیہ کی عملی تفسیر دیکھنے میں آتی، یا پھر آپ کے فرزند جلیل خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی صاحب دامت برکاتہم،حضرت مولانا محمد اسلم قاسمی صاحب دامت برکاتہم کے گوہر بار قلم سے کچھ سامنے آتا تو دیدنی و شدنی ہوتا مگر اسے حرماں نصیبی ہی تصور کرتے ہیں کہ حکیم الاسلامؒ کی حیاتِ مبارکہ کے آخری ایام جس آزمائش اور ابتلاء میں گزرے اس نے پوری ملتِ اسلامیہ کو ہلا کر رکھ دیا۔ خانوادۂ قاسمی کی ان دو بزرگ ہستیوں پر کیا گزری ہوگی، آپ سمجھ سکتے ہیں کہ ایسے میں خود کو اور خاندانی شرافتوں و روایتوں کو سنبھالے رکھنا ہی بہت بڑا کام تھا، پھر ان حضرات نے تو اس سے بڑھ کر دارالعلوم وقف دیوبند کی صورت میں ازسر نوایک عظیم الشان دینی دانش گاہ قائم کرکے مسلک دیوبند کی شاندار روایتوں کے تحفظ کا وہ سرو سامان کیا جو اپنے آپ میں بیسویں صدی کا ایک عظیم الشان دینی کارنامہ کہلائے جانے کا مستحق ہے۔ حکیم الاسلامؒ کو میرے جد امجد حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ سے تلمذ کی جو نسبت حاصل تھی اور جس درجہ کا خاندانی تعلق تھا، میرے والد مرحوم کی کوئی تحریر، گفتگو، مجلس اس کے تذکروں سے خالی نہ تھی۔ راقم السطور نے اپنی آنکھوں سے وہ منظر دیکھا ہے کہ جب والد مرحوم حضرت حکیم الاسلامؒ کا ذکر کرتے ہوئے تو آنکھیں بھر آتیں ، آواز بھرّا جاتیں ، انہیں حضرت حکیم الاسلام ؒسے تعلق ہی نہیں بلکہ عشق تھا، اس