حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
شکست خوردگی وغیرہ کا شکار ہے، اس لئے محض عددی اکثریت اسلامی اصول پر کیا قابل وقعت قرار پا سکتی تھی کہ اسے حقوق کیلئے فیصلہ کن اصول تسلیم کیا جاتا اور امیر کو اس کا پابند کر دیا جاتا‘۔‘(۱۰۲)مسلک دیوبند حدیث صحیح میں امت کے بہتّر فرقوں میں بٹ جانے کی جو پیشین گوئی فرمائی گئی وہ بعد میں حرف بہ حرف سامنے آتی چلی گئی۔ عہدِ رسالت کے بعد کیسے کیسے فرقوں اور عقیدوں نے جنم لیا، کیا کیا گمراہیاں اور خرابیاں وجود میں آئیں اور یکے بعد دیگرے پیدا ہورہی ہیں ۔ دیارِ ہند میں ابتداء ہی سے بت پرستی کی مختلف شکلیں رائج رہی ہیں ، مخلوط معاشرت اور مشترک تہذیب کے اس ملک میں مسلمانوں نے اپنی جہالت اور بے خبری کی وجہ سے دوسری قوموں کے عقائد اور تہذیب کے اثرات قبول کئے اور ان میں ڈھلتے چلے گئے۔ بدعات، خرافات اور توہمات نے عقائد کی جگہ لے لی اور بدنصیبی سے ان گمراہیوں کو دین کی شکل دے کر اہل اسلام میں اس کی تشہیر کے لئے ایک جماعت مسلمانوں سے ہی وجود میں آگئی، جس نے اپنے چہرے پر بے حیائی اور دینی بے حمیتی کا نقاب ڈال کر سادہ لوح مسلمانوں کے عقائد پر نقب زنی کا افسوسناک عمل شروع کردیا۔ نوبت ایں جارسید کہ عبادت اور پرستش کے جو طریقے ہنود کے یہاں جاری تھے انہوں نے بھی ان کی نقالی شروع کردی۔ ادھر ایک بدبخت، شقی اور کافرانہ اعمال میں ڈھلاہوا شیطان نبوت کا دعویٰ کر بیٹھا، اس کی فتنہ سامانیاں الحذر، اس کی ہرزہ سرائیاں الامان، پھر اس کے دوش بدوش نامعلوم کتنے فرقے اور کتنی گمراہ جماعتیں ہندوستان میں اہل اسلام کے لئے دردِ سر بنتی چلی گئیں ۔ ان جاں گسل احوال میں اسلام کی حقیقی تصویر اور کتاب و سنت کی صحیح تفسیر پیش کرنے کے لئے علمائدیوبند ہی کمربستہ ہوئے اور انہوں نے ہی تعلیم وتبلیغ، درس وتدریس اور زبان و قلم کی صلاحیتوں سے عقائد باطلہ اور بدعات و خرافات کے تارپود بکھیرے، رنگ رنگ کے فرقوں اور عقیدوں کے درمیان یہ امتیاز کرنا کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ سادہ لوح مسلمانوں کے بس کا تو تھا نہیں ۔ باطل فرقوں نے انہیں باور کرانا شرع کیا کہ ہو نہ ہو سب سے زیادہ گمراہ یہی ہیں ، عوام شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگے، علمائے دیوبند نے اپنی کتابوں میں مسلک دیوبند کا تعارف کروایا اور غلط فہمیوں کے ازالہ کے لئے اپنے عقائد کو بیان کیا۔ آخرمیں حکیم الاسلامؒ نے ’’علماء دیوبند کادینی رخ اورمسلکی مزاج‘‘ کے عنوان سے ایک مدلل اور تحقیقی کتاب تصنیف فرمائی جو اپنے موضوع پر