حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
سبب اعمال کو بتایا تھا، اسی طرح ان آیات واحادیث نے قلوب کے زنگ کفر اور بے توفیقی کا سبب بھی انسانی عمل اور کسب ہی کو بتایا ہے اور ان دونوں قسم کے سلسلوں سے شریعت ِاسلام کا یہ دعویٰ بالکل پختہ اور مضبوط ہوجاتا ہے کہ ظاہری عمل کا اثر قلب پر پڑتا ہے‘‘۔(۹۶)ہر امت کی ذہنیت اپنے نبی کی ذہنیت کا عکس وپرتو ہوتی ہے ذرا اس مضمون کو کافی توجہ کے ساتھ پڑھئے، لگتا ہے کہ حکیم الاسلامؒ کی زبان سے حکمت قاسمیہ کے سوتے پھوٹ رہے ہیں ،ایک ایک جملہ پر سبحان اللہ، ماشاء اللہ برجستہ زبان سے نکلتا ہے۔ ’’ جس نبی کی جو شان غالب ہوگی اسی شان کا غلبہ اس کی امت میں بھی ہوگا اور جس رنگ کی ذہنیت مقتدائے اعظم کی ہوگی وہی رنگ اس ساری ملت کی ذہنیت میں رچاہوا ہوگا۔ بالفاظ ِدیگرر سولِ برحق اللہ کی جس صفت سے خصوصی استفادہ کرتا ہے اسی صفت ِغالبہ سے وہ اپنی امت کو افادہ بھی کرتا ہے اور امت کی مجموعی ذہنیت نبی کی ذہنیت کا عکس اور پرتو ہوتی ہے ۔ بہر حال جرائم اور واردات کے اعداد وشمار لو تو متمدن ممالک کے امن عامہ اور ایثار وہمدردی کی حقیقت کھل جاتی ہے او رحادثات کی گنتی کرو تو سکون وعیش اور زندگیوں کے مامون ومطمئن ہونے کا اندازہ ہوجاتا ہے اور نمایاں ہوتاہے کہ اگر عیسائی اقوام نے مادی میدانوں پر فتح پاکر روحانیت کو کچلا تھا تو خود انہی کی مادیات نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ، یہی ناکہ قومی اور نسلی خود کشی کی بنیادیں اس طور پر مضبو ط کردیں کہ قوم کو اپنی زندگی قائم کرنا یا اسے برقرار رکھنا ہی دشوار ہوگیا۔ چنانچہ متمدنوں کی عیاشی پسند ذہنیت پہلے تو نکاح ہی پر تیروتبر لے کر کھڑی ہوگئی ، جس سے تولید ِ انسانی کا سلسلہ چلتا تھا جیسا کہ یورپ کی دوشیزہ لڑکیوں کی انجمنوں کے عہد نامے صاف بتلارہے ہیں ،پھر جو نکاح وجود پذیر بھی ہوئے تو وہ اس لئے تولید کا ذریعہ نہیں بن سکے کہ انھیں طلاقوں کی کثرت نے پامال کردیا۔ پھر طلاقوں کی زد سے نکل گئے تو ان کے تولیدی نتائج کو برتھ کنٹرول (منع حمل) کی تدابیر نے سوخت کردیااور جو اس مہلک جال سے بچ کر تولید کا سلسلہ شروع بھی ہوا اور کچھ نفوس ان عیاشیوں کے علی الرغم دنیا میں آکودے تو ان میں سے لاکھوں کو ملکی بد امنی یعنی قانونی امن کے نتائجِ بد قتل و غارت اور ماردھاڑ کی وارداتوں نے سنبھال لیا۔ پھر جو اس سے بھی بچ نکلے تو لاکھوں کی تعداد میں سائنس کے چمکتے ہوئے آثار کا رخانوں ، مشینوں ،