حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
ایک شاہکار تصنیف ہے۔ عنوان ہی سے ظاہر ہے کہ کتاب کے مندرجات علمائے دیوبند کے عقائد اور دینی موقف کی وضاحت میں ہیں ۔ ذیل میں ایک اقتباس اسی کتاب کا پیش کیا جارہا ہے، ملاحظہ فرمائیے: ’’اس لئے علمائے دیوبند کے مسلکی مزاج کا خلاصہ حسب ِمنشاء ِحدیث نبویؐ مختصر الفاظ میں ’’اتباعِ سنت بتوسط ِاہل الانابت، یا تعمیل ِدین بہ تربیت ِاہل یقین ،یا اتباعِ دین ودیانت بہ تربیت ِ اہل السنۃ ،یا انصباغِ قلوب بصبغۃ علام الغیوب، یا اتباعِ اوامر اللہ بصحبت اولیاء اللہ‘‘ نکل آتا ہے۔ اب اگر اس مسلک کو کھولنے کے لئے السنۃ اور الجماعۃ کے ان چھوٹے چھوٹے اور مختصر الفاظ کی وسیع ترین معنویت اور تفصیلات کو سامنے لایا جائے تو ان الفاظ میں لایا جاسکتا ہے کہ السنۃ کے تحت روشِ نبوی سے دین کے جس قدر بھی شعبے بنتے چلے گئے وہ سب مسلک علما ء ِدیوبند کا جزو ہیں اور الجماعۃ کے تحت ذاتِ نبویؐ کے فیض سے صحابہؓ سے لے کر تابعین، ائمہ مجتہدین اور علماء ِراسخین فی العلم تک ان شعبوں کے لحاظ سے جس قدر بھی عظیم شخصیتیں بنتی چلی گئیں ،فرقِ مراتب کے ساتھ ان سب کی عظمت ومتابعت اور ادب واحترام اس مسلک کا جوہر ہے اور اس طرح یہ مسلک اپنے اصول اور اپنی متبوع شخصیتوں کے لحاظ سے سنت ِنبویؐ اور ذاتِ نبویؐ کی عظمت ومحبت سے پیدا شدہ ایک درخت ہے جس کے ہر پھل پھول میں وہی سنت کارنگ وبورچاہوا ہے، جس کی نوعیت یہ ہے کہ کوئی بھی دینی اور اسلامی شعبہ نہیں اور نہ ہوسکتا ہے جو سنت ِنبویؐ کے آثار میں سے نہ ہو، ورنہ اسے دینی ہی کیوں کہا جاتا اور دین کی کوئی بھی دینی اور اولوالامر قسم کی شخصیت ایسی نہیں جو ذاتِ نبویؐ سے مستنیر نہ ہو اور آپ سے نسبت نہ رکھتی ہو، ورنہ اسے دینی شخصیت ہی کیوں کہا جاتا؟ اس لئے اگر کسی مسلک کو منشاء ِنبوت کے مطابق بننا تھا تووہ اس کے بغیر بن ہی نہیں سکتا تھا کہ وہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے تمام منتسب شعبوں اور حضورؐ سے منسوب تمام ذواتِ قدسیہ کے تعلق کو اپنے مسلک کا رُکن بنائے اور انہی کی روشنی میں آگے بڑھے تاکہ اسے اپنے نبیؐ سے اصولی اور ذاتیاتی دونوں قسم کی صحیح اور جامع نسبت حاصل رہے جب کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی تعلق مع اللہ کی ساری نسبتوں کے جامع اوران میں فردِ اکمل ہیں ، اس لئے ہر اچھی نسبت جو حضورؐ سے چل کر آئے گی خواہ وہ کسی بھی شعبۂ دین کے راستے سے آئے یا کسی بھی مستند دینی شخصیت کے توسط سے نمایاں ہو، وہ اپنے وابستہ کوحضورصلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف لے جائے گی اور آپؐ ہی سے وابستہ کرے گی۔