حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
’’اسلام کا قالب جن قانونی دستاویزوں اور فطری اصولوں سے مشیت خداوندی نے تیار کیا ہے ان میں تمام ہنگامی اور دوامی اصلاحات اور ان کے اصول و قوانین جمع کرکے ان میں سے ان تمام سماجی برائیوں کو نکال دیا ہے جن کا نام جاہلیت تھا، اس میں کسی تغیر اور تبدیلی کے معنی اسی جاہلیت کو دوبارہ لے آنے کے سوا دوسرے نہیں ہوسکتے، جس سے مالک مطلق نے انسان کو پاک کرکے درجۂ کمال پر پہنچایا تھا۔ آج پرسنل لاء بورڈ کے نام پر ان تبدیلیوں کا مواد بنام ’’اصلاح و ترمیم‘‘ پیش کیا جارہا ہے۔ کیا حقیقتاً یہ اصلاح اور کوئی اصلاحی تحریک ہے؟ یہ اصلاح اسی قسم کی ہے جسے قرنِ اوّل کے منافقین انما نحن مصلحون کے نعرے کے ساتھ لے کر کھڑے ہوئے تھے لیکن عالم الغیب والشہادۃ نے کھلا اعلان فرما دیا تھا کہ اَلاَ اِنَّھُمْ ھُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَلٰکِنْ لاَّ یَعْلَمُوْنَ۔ ہم اپنے دین و دانش کے لحاظ سے یہ تسلیم نہیں کرتے کہ مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کی تحریک کوئی اصلاحی تحریک ہے جو ہندو کوڈ بل سے پیدا ہوئی ہے۔ سو یہ آپ کی سیاست ہے، آپ اسے اپنے پاس رکھئے۔ ہندوستان کا دستور مذہب و سیاست کو الگ الگ قرار دیتا ہے تو آپ ہمارے مذہب کے معاملہ میں اپنی سیاست ملا کر حکومت اور عوام کو ناراض کرنے کی کوشش کیوں کر رہے ہیں ؟ آپ کا دعویٰ ہے کہ حکومت ریفارمس چاہتی ہے اور ہم مصلح ہیں ۔ میں پوچھتا ہوں کہ ملک میں سماجی برائیوں ، اخلاقی گراوٹوں اور غلاظتوں کے جو ڈھیر لگے ہوئے ہیں ، حکومتوں کے قانون، حکام کی طاقت اورنام نہاد مصلحین کی اصلاحی مہم کا رخ اس طرف کیوں نہیں ؟ مجھے اس وقت ایک سخت لفظ کہنے پر معاف کیجئے کہ وہ سماج کتنا دیوث ہے جو لاکھوں مائوں ، بہنوں اور بیٹیوں کو بازار میں بیٹھنے کی اجازت دیتا ہے اور چار شادیوں کی محض اجازت اور وہ بھی خاص شرائط و عدل ودیانت سے مشروط اجازت پر اعتراض کرتا ہے اور اس غلاظت پر ان مظلوم، قسمت کی ماری، بازاری گناہگار عورتوں پر کتنے مرد ظلم توڑتے ہیں ، نہ کوئی پابندی عائد کرتا ہے اور نہ کوئی داروگیر کا روادار ہے، سماج نے گناہوں کے بازار لگا رکھے ہیں ۔ آج بھی اس ملک میں ایسے فرقے ہیں جو اسّی اسّی بیویاں رکھتے ہیں اور سماج ان کے بارے میں چوں تک نہیں کرتا۔ بقول بابو ابھے چندر اور بابو گریندرناتھ دت ’’اس ملک میں کامن برہمن بھی ہیں ،جن کی پچاس پچاس اور سو سو بیویاں ہیں ، ان میں سے ہرشخص کے پاس ایک نوٹ بک رہتی ہے، جس میں وہ اپنی بیویوں کی ولدیت اور گائوں کا نام لکھتے ہیں اور پھر بھی انہیں پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتاہے کہ جسے وہ ایک اجنبی سمجھ کرملتے ہیں وہ ان کی بیوی یا لڑکاہوتا ہے۔(۳۳) ……v……