حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
حوالے سے برصغیر کے مسلمانوں کا دھڑکتا ہوا دل اور عالم انسان کی ایک مسلّم دینی دانش گاہ کی حیثیت کا حامل رہا ہے۔ اس لئے اس عظیم دانش گاہ کے حرکت و عمل اور نرم گرم کا اثر اس کی چہار دیواری تک ہی محدود نہ رہا۔ بلکہ پوری ملت اس سے متاثر ہوتی رہی ہے۔ قضیۂ دارالعلوم کے نتیجے میں خود دارالعلوم کی شاندار روایات پر جو حرف آیا اس سے بڑھ کر ملت میں انتشار اور فکر دیوبند سے وابستہ حلقوں میں جن بدگمانیوں اور بے اعتمادیوں نے جنم لیا وہ قضیۂ دارالعلوم کا سب سے اندوہناک باب ہے، جس کو طریق عمل کے سینکڑوں اختلافات کے باوجود فریقین نے بھی محسوس کیا۔ حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحب نوراللہ مرقدہٗ بالعموم اپنے خوردوں کو اور بالخصوص اپنے اہل خانہ کو نصیحت (جو کہ بعد میں وصیت بن گئی) فرمائی کہ ’’یاد رکھو اختلاف بات سے ہوتاہے اور خلاف ذات سے ہوتاہے، قضیۂ دارالعلوم کے اختلاف کا تعلق اول الذکر بات سے ہے، رائے سے ہے،طریقۂ عمل سے ہے، جہاں تک ذوات کا تعلق ہے سبھی حضرات جماعت کا معتبر حصہ ہیں ، اس قضیہ کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جماعت دو حصوں میں تقسیم ہوگئی یا بایں طور کردی گئی کہ ایک دوسرے کے پیچھے نمازیں ادا کرنے میں بھی تکلف پیداہو گیا ہے، لہٰذا جماعت کی شیرازہ بندی کے لئے مساعی جاری رہنی چاہئیں ، جب بھی اور جس قیمت پر بھی ہو اس کی تکمیل اولین مقصد کے طور پر بہر طور مقدم رکھی جائے اور قضیۂ دارالعلوم کو کبھی بھی عوامی موضوع نہ بنایا جائے، بالخاص اس نصیحت کا مخاطب حضرت خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی صاحب کو بنایاگیا۔‘‘ حضرت خطیب الاسلام جماعت کی تفریق سے ہمیشہ رنجور و محزون رہتے تھے۔ اگر مقصد نیک ہو اوریقین کامل ہو تو للہیت پر مبنی اخلاص نیت اور مساعی جمیلہ پر نصرت خداوندی کا ترتب امر موعودہے، مختلف جوانب سے باہمہ وجوہ مصالحانہ کاوشیں افراط و تفریط کا شکار ہو کر ٹھنڈے بستہ میں جاتی رہیں ، مگر قدرت کو تو کچھ اور ہی منظور تھا، آنے والی نسلوں کے الجھے ہوئے مسائل کو حل ہونے میں تیئیس منٹ بھی نہیں لگتے ہیں ۔ صورتِ واقعہ یہ پیش آئی کہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ صدر جمعیۃعلماء ہند کی شدید بیماری کی اطلاع اخبار میں شائع ہوئی، اس خبر کے معاً بعد حضرت خطیب الاسلام نے تمام تر اختلافات اور تلخیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مدینہ منورہ میں مولانا اخلد رشیدی صاحب کو فون کرکے عیادت کی، اس اقدام سے یکساں طور پر دو طرفہ خوشگوار اثرات مرتب ہوئے، اگلے ہفتہ حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحبؒ دیوبند تشریف لائے اور ملاقات کی خواہش ظاہر فرمائی، بوقت ملاقات حضرت خطیب الاسلام نے فرمایا کہ ہم دونوں عمر کی اس منزل میں پہنچ گئے ہیں کہ اگر مختلف فیہ مسائل کو من و عن چھوڑ دیا گیا تو یہ نظریاتی