حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
خلاصہ یہ کہ خاکی لباس میں ہم تھے ردا بھی خاک تھی جیسے خاک کا تن تھا مگر کشش تھی محبتوں کی باخلوص تام کہ تھا یہ سہل سب ہی، گو سفر اجیرن تھا جوں ہی کہ پونچھ کی آئی فصیل زیر نظر تو دل کا غار برنگِ بہار گلشن تھا ہجوم تھا درِ بلدۃ پہ منتظر پر شوق جو دل کے جذبۂ الفت سے نعرۂ برزن تھا زباں پہ نعرۂ تکبیر زندہ باد کا شور ہر ایک کے دل میں نہاں گویا طور ایمن تھا بصد نیاز و بصد ناز و صد عقیدت و جوش ہر ایک سینہ فراز و خمیدہ گردن تھا عجب مسرت و فرحت، عجب سرور و نشاط خوشی کی لہر تھی، الفت کا ایک سیزن تھا پولیس تھی نظم میں آگے بانتظام حسیں ہر ایک جواں تحفظ میں ماہرِ فن تھا فضا بدل گئی سب دھل گیا وہ گرد و غبار کہ تھا جو خار مغیلاں تو اب وہ گلشن تھا پڑا جو پونچھ کی الفت کے آب کا چھینٹا تو دھل کے صاف تھا شیشہ جو رنگِ آہن تھا یہ پونچھ والوں کے اخلاص و دین کا تھا اثر چمک اٹھا رخ شیشہ جو زنگِ برتن تھا پہنچ کے پونچھ پر وبال ہوگئے برحال اگر چہ مرغ کباب اور سوختہ تن تھا