حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
پھر اسیر راہ خطرناک ساتھ میں پرخار ہر ایک خار بھلا ٹائروں کا دشمن تھا ہر ایک کار نشیں ٹائروں کے سرکار سوار میان راہ کے خطروں سے لرزہ برتن تھا جگہ جگہ تھی سڑک خام، پختہ کار تھی دگر رفیقِ راہ غبار اور گرد کا دھن تھا سڑک پہ بکھرے ہوئے پتھروں کے تھے ٹکڑے جن سے کار کا مجروح رنگ و روغن تھا اچھل کر آتے تھے پتھر ہی خیر مقدم کو کہ جن سے خطرہ میں ہر لمحہ ڈھانچہ تن تھا یہ تھے تو راہ کے ٹکڑے مگر تھے سنگِ راہ کہ رہ کہ راہ پہ ہر ایک ان میں رہزن تھا سڑک تھی کوہِ شکن اور رستم افگن تھی اور ہم ہوا کی طرح تھے ضعیف سا تن تھا سڑک یہاں کی مناسبت تھی کوہِ کن کے لئے اور ہم تھے شیریں ہمارا کچھ اور ہی من تھا رواں تھے ہم تو سڑک پہ سڑک تھی ہم پر سوار لباس گرد کا تھا اور غبار مسکن تھا سفر تو اپنی صعوبت سے تھا ہی مشکل سفر پھر اس پر راہ کی تنگی سے غم کا مخزن تھا وہ راستہ تھا کہ تھا پل صراط کا نقشہ جو دو طرف سے نشیب و فراز کا بن تھا کہ ایک طرف تھے پہاڑ، ایک طرف تھے گہرے غبار جب ان سے گزرو تو جنت کا آگے گلشن تھا