حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
حضرتؒ کے یہ الفاظ سن کر تو میں مرمٹا یعنی ایسی فنائیت حضرت حکیم الامتؒ کی تربیت سے حاصل ہوئی کہ اپنی فنائیت سے بھی بے خبری ہوگئی۔ بقول خواجہ عزیز الحسن مجذوبؒ کہ: میں مٹنے کو بھی مٹا نا چاہتا ہوں مقامِ فناء ہے الفنا چاہتا ہوں (۲۴) مولانا مفتی غلام مرتضیٰ صاحب لکھتے ہیں کہ: ــ’’حضرت حکیم الاسلام قدس سرہٗ علوم ظاہریہ سے فارغ ہوئے اور ۱۳۳۷ھ کے بعد باطنی علوم کا آغاز اس طرح ہوا کہ آپ نے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن صاحب قدس سرہٗ کے دستِ کرامت پر بیعت کا شرف حاصل کیا اور حضرت شیخ کے وصال کے بعد قطب العالم حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ قدس سرہٗ کے دربار کی طرف رجوع کیا اور چند سال کے بعد ۱۳۵۰ھ میں حضرت حکیم الامت تھانویؒ نے آپ کو حکیم الاسلام کا لقب عطا فرماکر خلیفہ مجاز قرار دیا۔ پھر آپ علوم ظاہرکے ساتھ علوم باطن کے بھی شہسوار بنے، حکیم الامت حضرت تھانوی ؒکے خلفاء میں آپ کو ایک خاص مقام حاصل تھا، حضرت تھانوی آپ پر خاص توجہ فرمایا کرتے تھے اور آپ پر حضرتؒ کی خاص نظر عنایت تھی۔آپ تقریباً بیس سال تک حضرت حکیم الامتؒ کی صحبت میں رہے اور صحیح علمی و روحانی جانشین ثابت ہوئے۔ جس طرح آپ نے علمی و دینی خدمات انجام دیں اسی طرح سلوک و تصوف میں بھی آپ کی بے مثال خدمات ہیں ۔ آپ نے اپنی زندگی عوام کی اصلاح و فلاح کے لیے وقف کی ہوئی تھی اور عام مسلمانوں کو وعظ و نصیحت کرتے ہوئے خدا کی رضا اورشریعتِ نبویؐ کے مطابق زندگی بسر کرنے کی تلقین فرمایا کرتے تھے اور اپنی زندگی میں بیشمار لوگوں کی اصلاح فرمائی۔ ملک و بیرون ملک میں لاکھوں کی تعداد میں لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے اوربہت سے خوش نصیبوں نے آپ سے خلافت و اجازت کا شرف حاصل کیا جو آج خود بھی عوام و خواص کی اصلاح میں مصروف ہیں ۔‘‘ (۲۵) مولانا اخلاق احمد عثمانی خلیفۂ مجاز حضرت حکیم الاسلام ؒلکھتے ہیں کہ: ’’حکیم الاسلامؒ غزالئی دوراں ، جامع شریعت و طریقت، مرشد کامل، خطیب بے مثل، مفکر اسلام حضرت علامہ محمد طیب صاحبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند حضرت حکیم الامت تھانوی کے علمی و روحانی عظیم ترجمان تھے اور حضرت حکیم الامت قدس سرہٗ کی وفات کے بعد نصف صدی سے زائد تک حضرت حکیم الاسلام مولانا محمد طیب صاحبؒ صحیح معنوں میں حضرت حکیم الامت تھانویؒ کی نیابت و خلافت کے فرائض احسن طور پر انجام دیتے رہے۔ جس سے پورا عالم اسلام بخوبی واقف ہے۔ آپ اپنے چشمۂ ہدایت سے تشنگانِ قلب و روح کو