حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
ایک ایک اہم جادہ پر آپ کی عظمت و بزرگی اور جلالت علمی سے متعلق اعتراف و اقرار کے نشانات مرتسم ہیں ۔ آپ کے پیش رو بزرگوں اور اکابرین کے سامنے بھی دیوبند کے باہر گردنوں کے خم اور استحسان کے بول منتظر رہتے تھے لیکن اعتراف و تسلیم کے معاملہ میں آپ کی ذاتِ اقدس کے علاوہ کسی بھی شخصیت کے متعلق دیوبند کے لوگوں کے اعتراف و احسان کے الفاظ ادا نہیں ہوئے۔ اس لحاظ سے چند فرلانگ کا یہ فاصلہ صدیوں کی مسافت بنا رہا۔ اس اظہارِ عقیدت کی اہمیت بس اتنی ہی ہے کہ آج اعتراف و اقرار، فضل و احسان نے اس مسافت کو ختم کردیا ہے۔ جامع مسجد، جہاں دارالعلوم کی کشتی چھوٹی سی ایک آب جو میں ڈالی گئی، جامع مسجد، جہاں ایک وسیع و عریض اور گرجتے ہوئے سمندر کے درمیان عزم، اطمینان اور استقلال کے ساتھ چلتے ہوئے دارالعلوم کے ایک عظیم الشان جہاز کے ناخدا کی حیثیت سے ہم آپ کی خدمت میں اظہار شکر و سپاس کر رہے ہیں ۔ آخر میں ہم خداوند عز و جل سے دعا کرتے ہیں کہ آپ کی جلیل شخصیت تادیر ہمارے سروں پر شرف و افتخار کا سایہ قائم رکھے اور آپ قاسم العلوم کے ورثۂ علمی کے وارث کی حیثیت سے دارالعلوم اور دیوبند کے اقبال و اعزاز کا پرچم فضائوں میں لہراتے رہیں ۔ تم سلامت رہو ہزار برس ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار ……v……