حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
اعترافی نقش ہر مسلمان کے قلب پر مرتسم ہے اور مسلمانانِ عالم آں جناب کی اُن خدمات اور جہد مسلسل کے لئے آپ کو مبارکباد کے ساتھ ساتھ ہدیۂ عقیدت و تشکر پیش کرتے ہیں ۔ بحر ہند میں واقع اس دور دراز اور چھوٹے سے جزیرے میں حضرتِ اقدس کی تشریف آوری کی اطلاع ہمارے لئے پیغامِ عید بن کر آئی۔ پڑوسی جزیرہ رے یونین میں آں جناب کی آمد اور مواعظ حسنہ اور مبارک مجلسوں کے ذریعہ فیض رسانی کی جو اطلاعات ہمیں ملتی رہتی تھیں انہیں سن سن کر جہاں ہم ایمانی تازگی محسوس کرتے تھے وہیں اشتیاقِ زیارت اور آرزوئے قدم بوسی میں بیتابی کی حد تک اضافہ ہوتا رہتا تھا، اگر چہ اس نعمت کے حصول میں اہل رے یونین ہم سے سبقت لے گئے مگر نعمت کی عظمت و شان کے پیش نظر ہم اسے بھی اپنے لئے باعث صد افتخار و ناز سمجھتے ہیں کہ ہمیں بھی ضمناً حضرت والا کی فیض رسانی سے حصہ مل گیا۔اللہ تعالیٰ حضرت والا کے اس مختصر مگر انتہائی مبارک قیام کو ہمارے حق میں مسعود فرمائے اور ہمیں استفادہ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین حضرت اقدس! یہ جزیرہ موریشس پڑوسی جزیررہ رے یونین سے کسی قدر رقبے اور آبادی میں بڑا ہے، اس کی آبادی تقریباً پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور یہ برطانوی حکومت کے زیر اقتدار ہے، یہاں کی کل آبادی میں عیسائی، ہندو اور مسلمان تین قومیں ہیں جن کی کثرت آبادی کی ترتیب بھی مذکورہ ترتیب کے مطابق ہے۔ یہ شہر ’’پورٹ لوئس‘‘ جہاں آج حضرت والا اس جلسے کی صدارت فرما رہے ہیں ، اس جزیرے کا دارالحکومت ہے۔ اس جزیرے کا تمدن جیسا کہ آں جناب نے ملاحظہ فرمایا جزیرہ رے یونین کی طرح ہی نہایت اونچا اور مغربی طرز کا ہے۔ خدا کے فضل و کرم سے مسلمان خوش حال اور مطمئن ہیں اورتجارت،صنعت اور ملازمت وغیرہ کے میدانوں میں اپنی ایک مستقل حیثیت رکھتے ہیں ۔ اس کے ساتھ یہ امر قابل اطمینان ہے و مسرت ہے کہ مسلمانوں میں دینی جذبات بھی موجود ہیں اور وہ رفتار زمانہ کے ساتھ بہہ کر خداو رسول اورمذہب سے بیگانہ نہیں بن گئے۔ اکثر شہروں میں خوبصورت اور کشادہ مساجد موجود ہیں جن میں سے بعض میں ابتدائی دینی تعلیم کا بھی انتظام ہے جو مخلص اور دینی درد رکھنے والے مسلمانوں کی توجہ سے چل رہی ہے۔ ہم لوگوں کی آرزو تھی کہ حضرت اقدس کی پُراز سعادت ہم نشینی میسر آئے اور ہم آں جناب کے مواعظ، پند ونصائح اور علمی مذاکرات سے اپنے ذہن و فکر کو جلا دے سکیں ۔