حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
عمارت کے افتتاح کے لیے تشریف لائے۔ حضرت حکیم الاسلام ؒنے ملتان تا لاہور کار کے ذریعے صرف اس لیے سفر کی تکلیف فرمائی کہ راستہ میں ’’دیوبندی مکاتب فکر‘‘ کے احباب سے ملاقات ہوجائے۔ چناں چہ حضرت ؒ ۹؍بجے کے قریب جامعہ رشیدیہ تشریف لائے۔ جامعہ کے اکیس علماء فارغ التحصیل کی دستار ہائے فضیلت، سندات، انعامی کتب آپ کے سامنے رکھی تھیں اور ۲۲؍طلباء حفاظِ قرآن، قرآن حکیم ختم کر چکے تھے۔ حضرتؒ کی تشریف آوری پر احقر ناظم ادارہ نے مختصر سا زبانی سپاسنامہ پیش کیا اور جامعہ رشیدیہ کا دارالعلوم دیوبند اور اکابر دیوبند سے تعلق اور رابطہ بیان کیا۔ حضرتؒ نے جامع خطاب فرماتے ہوئے (کتب خانہ رشیدیہ) میں دعا فرمائی اس تقریب سعید میں ساہیوال، بھاولپور، بھاول نگر، ملتان، فیصل آباد، سرگو دہا اور لاہور کے اضلاع سے لوگ حضرت حکیم الاسلامؒ کی زیارت کے لیے اور خطاب سے مستفید ہونے کے لیے کثیر تعداد میں شریک ہوئے تھے۔ حضرت حکیم الاسلامؒ نے اپنے مختصر مگر جامع خطاب میں فرمایا کہ: ’’پاکستان میں میری حاضری محدود وقت کے لیے ہوتی ہے۔ وقت بہت کم ہے اور پروگرام طے پایا کہ ملتان سے لاہور تک سفر سڑک کے راستے بذریعہ کار کیا جائے تاکہ راستے میں دوستوں سے ملاقات ہوتی چلی جائے اورزیارت سے ہم مستفید ہوتے چلیں گے اگرچہ گرمی کا موسم ہے اورسفر گو دشوار تھا مگر دوستوں اور احباب کی گرمیٔ محبت گرمیٔ آفتاب پر غالب آگئی۔ جامعہ رشیدیہ میں حاضری ہوگئی۔ کیوں کہ اس کا تعلق اکابر دارالعلوم دیوبند سے ہے نیز جہاں بھی کوئی فاضل دارالعلوم بیٹھا ہے اس سے تعلق ہے یہ خطہ تو ایک ہی تھا مگر تقسیم نے جدا کر دیا۔ یورپ میں ، میں نے دیکھا ہے کہ بہت زیادہ مدارس قائم ہیں اور فضلاء دارالعلوم اپنی اپنی جگہوں پر اشاعت دین میں بذریعہ تدریس مصروف ہیں ۔ تقریباً بیس؍پچیس گرجے خرید کر وہاں مدارس اور مساجد قائم کر دی گئی ہیں اور فضیلت کی بات یہ ہے کہ ان گرجوں کو خریدنے میں غیر مسلموں نے بھی انتہائی کوشش کی مگر فروخت کرنے والوں نے مسلمانوں کے ہاتھ بیچنے کو ترجیح دی۔ کیوں کہ وہ کہتے تھے کہ یہ اللہ کا نام لیں گے۔ اب وہاں عقیدۂ تثلیت کی جگہ عقیدہ توحیدکی تعلیم دی جا رہی ہے اور یورپین نوجوان نسل اپنے نظریات و اعمال سے دل بر داشتہ ہوچکے ہیں ۔ وہ اب سکون حاصل کرنے کی سعی میں مصروف ہیں ۔ جس کے نتیجے میں فضلاء دارالعلوم دیوبند نے نوجوان نسل کے ذہنوں میں تبدیلی کے لیے محنت کی اور کررہے ہیں