حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
علا وہ مؤ تمر اسلا می کے نما ئندے شیخ عبد المنعم النمر اور شیخ عبد العال العقبا دی وغیر ہ حضرات نے ریلوے اسٹیشن پر صدر جمہو ریہ ہند کا خیر مقد م کیا ، صدر جمہو ریہ کی کا ر جب دارالعلوم کے لئے روانہ ہو ئی تو دیوبند اور قرب و جو ار کے ہزار وں آدمی سڑک پر دو رو یہ صدر کے استقبال کے لئے کھڑے ہو ئے تھے، دارالعلوم کی تاریخ میں اس نو عیت کا استقبا ل اس سے قبل دیکھنے میں نہیں آیا ، پورا راستہ رنگ برنگ جھنڈیوں سے آراستہ تھا ، اسٹیشن کے قریب سب سے پہلے در وازے پر یہ عبا رت لکھی ہو ئی تھی، ’’دیدہ ٔ و دل فر ش راہ‘‘ احا طہ دارالعلوم کے با ہر طلبا ئے دارالعلوم کی دورو یہ قطا ریں کھڑی ہو ئی تھیں ، اس مو قع پر ہند و بیرون ہند کے طلبا ء کے علیحدہ علیحدہ گر وپ تھے ، طلبا ء دارا لعلوم ہند وستان کی تقریبا ًسبھی ریا ستوں کی نما ئند گی کررہے تھے۔ صدر جمہو ر یہ نے دارالعلوم کا تفصیلی معا ئنہ فر ما یا ، عما رتیں دیکھیں ، کتب خا نہ کے نو ادر اور مخطوطا ت ملا حظہ فر ما ئے ، آزادی وطن کی راہ میں علما ئے دیو بند کی قر با نیوں کی داستان سنی ، اسا تذہ اور طلبا ء کا سا دہ طر ز معا شرت دیکھا ، قر آن مجید کے ایک فارسی تر جمے کو بڑی تو جہ سے ملا حظہ فر ما یا اور اس میں سے چند آیتوں کا ترجمہ پڑ ھوا کر سنا، معا ئنہ دارالعلوم کے بعد خیر مقد م کے ایک عظیم الشان جلسہ میں حضرت مہتمم صا حبؒ نے سپاس نا مہ پیش کیا،صدر نے اس کے جو اب میں دارالعلوم کو خراج تحسین پیش کر تے ہو ئے فر ما یا کہ: ’’دارالعلوم کے بزرگوں نے صرف اس ملک میں رہنے والوں ہی کی خدمت نہیں کی بلکہ آپ نے اپنی خدمات سے اتنی شہرت حا صل کر لی ہے کہ غیر ملک کے طا لب علم بھی آپ کے یہا ں آتے ہیں اور یہا ں سے تعلیم پا کر اور جو کچھ یہا ں انھوں نے سیکھا ہے اپنے ملکو ں میں واپس جا کر اس کی اشا عت کر تے ہیں ، یہ بات اس ملک کے سبھی با شند وں کے لئے قا بل فخرہے ،میں امید کر تا ہو ں کہ آپ جس خلوص ،نیک نیتی اور جس عزم وارادے کے سا تھ اس کا م کو آج تک کر تے آئے ہیں آئندہ بھی اس کو جا ری رکھیں گے، مجھے امید ہے کہ یہ دارالعلوم دن بدن تر قی کر تا جا ئے گا اور صرف اس ملک ہی کی نہیں بلکہ غیر وں کی بھی خدمت کرتا رہے گا ۔ سہ پہر میں عصرانے کے مو قع پر صدر جمہو ریہ ٔہند نے اراکین دارالعلوم کا شکر یہ ادا کر تے ہو ئے فرمایا: ’’دارالعلوم کے بزرگ علم کو علم کے لئے پڑھتے پڑ ھا تے رہے ہیں ، ایسے لو گ پہلے بھی ہو ئے ہیں ، مگر کم جنھوں نے علم کو محض علم کی خدمت کے لئے سیکھا اور سکھا یا ، ان لو گو ں کی عزت با دشا ہو ں سے بھی زیادہ ہو تی تھی،آج دارالعلوم کے بزرگ اسی طر ز پر چل رہے ہیں اور میں سمجھتا ہو ں کہ یہ صرف دارالعلوم یا