حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
مولانا محمد طیب صاحبؒ کی اور ان کے خاندان کی مساعی جمیلہ کا نتیجہ ہے اور یہ سب دارالعلوم دیوبند ہی کی برکات ہیں ۔ ایشیا بھر میں پھیلے ہوئے مدارس ان کے اساتذہ اور منتظمین کا تعلق بغیر واسطہ کے یا بالواسطہ دارالعلوم دیوبند سے وابستہ ہے، اللہ تعالیٰ حکیم الاسلام حضرت مہتمم صاحبؒ کے اہل ِ خاندان اخلاف رشید میں بھی ان ہی جیسے اوصاف و کمالات پیدا فرمادے اور اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے اس خلاء کو پورا فرمادے۔ آمین۔ (۳۱) مولانا قاری فیوض الرحمن صاحب ایم۔ اے۔ فرماتے ہیں : ’’حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحب قاسمیؒ نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کی حیثیت سے عالمِ اسلام خصوصاً ہندوستان کے مسلمانوں میں علم دین کی جو شمع روشن رکھی اور ہندوستانی مسلمانوں کے بزرگ قائد کی حیثیت سے جو خدمات انجام دیں تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپ تقریباً ساٹھ سال دارالعلوم دیوبند کے مہتمم اعلیٰ رہے اوران کے دور میں دارالعلوم نے ہر شعبہ میں ترقی کی جس کا سہرا بلاشبہ انہی کے سر ہے اسے دلچسپ اتفاق ہی کہہ لیں کہ آپ کے جدامجد حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتویؒ بانی دارالعلوم دیوبند نے ۳۳ سال کی عمر میں دارالعلوم دیوبند کی بنیادرکھی۔ ۳۳ سال کی عمر ہی میں حضرت مہتمم صاحبؒ کے والد گرامی مولانا محمد احمد صاحبؒ دارالعلوم کے مہتمم مقرر ہوئے اور حضرت مہتمم صاحب کی عمر بھی ۳۳ سال ہی کی تھی جب دارالعلوم دیوبند کے مہتمم کی حیثیت سے فرائض سنبھالے تھے۔ آپ ۱۳۴۱ھ سے ۱۳۴۸ھ تک اپنے والد ماجد حضرت مولانا محمد احمد صاحب قاسمیؒ اور حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانیؒ کے زمانۂ اہتمام میں نائب مہتمم رہے اور ۱۳۴۸ھ سے آخر دم تک دارالعلوم کے مہتمم اعلیٰ رہے۔ آپ کے دورِ اہتمام میں دارالعلوم نے غیر معمولی ترقی کی۔ تعلیمی اور تعمیری سلسلہ کافی بڑھا۔ کاموں اور شعبوں میں اضافہ ہوا۔ اساتذہ و طلباء اور عملہ کی تعداد بھی کافی بڑھ گئی، آمدنی کی رفتارغیرمعمولی طور پرترقی پذیر ہوئی۔ حضرت مولانا حامد الانصاری غازیؒرکن شو ریٰ دارالعلوم دیوبند فرماتے ہیں : ’’ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے دور اہتمام میں دارالعلوم باعتبار شہرت و عظمت دنیا کے دور دراز گوشوں تک پہنچا ہے اور بچہ بچہ آپ کے خلق، مروّت، علم وعمل، فرض شناسی امانت و دیانت سے واقف ہے۔ یہ واقعہ ہے کہ اس پایہ کا مہتمم دارالعلوم دیوبند کو آئندہ شاید نہ مل سکے گا۔ سارے مدرسین و ملازمین اور کارکنانِ دفاتر آپ کے اخلاق اور حوصلہ پر مکمل یقین رکھتے تھے۔ آپ کی شخصیت علمی گہرائیوں ، تحقیق و تصنیف کی خدمات وعظ و تذکیر تقویٰ و طہارت اور