حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
اور مربی اخلاق بزرگ تھے۔ آپ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین صاحب دیوبندی قدس سرہٗ کے خلیفۂ مجاز تھے۔ جو حضرت مولانا شاہ عبد الغنی محدث دہلویؒ کے ارشد خلفاء میں سے تھے۔ آپؒسے دارالعلوم کے حلقوں نے ظاہری و باطنی فیوض و برکات کا فی حد تک حاصل کیے۔ افتاء کی خدمات کے ساتھ ساتھ حدیث فقہ اور تفسیر کے اونچے اسباق بھی آپؒ پڑھاتے تھے۔ جلالین شریف میں احقر ناکارہ کو بھی حضرت مفتیِ اعظم ہی سے تلمذ حاصل ہے۔ آپؒ کا بیعت و ارشاد کا سلسلہ کافی پھیلا۔ آپؒ ہی کے خلیفۂ اعظم حضرت مولانا قاری محمد اسحاق صاحب میرٹھیؒ تھے۔ جن کے خلیفۂ مجاز حضرت مولانا سید بدر عالم صاحب میرٹھیؒ مہاجر مدنی تھے۔ جن سے عرب اور افریقہ میں نقشبندیہ طریق کا کافی شیوع ہوا اور سینکڑ وں کی اصلاح ہوئی۔ سائوتھ افریقہ اور ایسٹ افریقہ کے لوگ جب حج کے لیے حاضر ہوتے تو اکثر و بیشتر مولانا بدر عالم صاحبؒ کے حلقۂ بیعت میں داخل ہوکر جاتے تھے۔ ابتداء میں حضرت مفتی اعظم ہی حضرت مولانا محمد احمد صاحبؒ (احقر کے والد ماجد) کی غیبوبت میں نیابت اہتمام کے فرائض انجام دیتے تھے۔ بہرحال دارالعلوم دیوبند آپ کے علم وسلوک ،فتاویٰ اور انتظام وغیرہ سے سارے ہی شعبوں میں مستفید ہوتا رہا ہے۔ (۱۲) حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ فرماتے ہیں : ’’حضرت مولانا مفتی عزیز الرحمن عثمانی قدس سرہٗ کے علم و فضل کا یہ عالم تھا کہ آج ان کی تصنیف ’’عزیز الفتاویٰ‘‘ عہد حاضر کے تمام مفتیوں کے لیے مآخذ بنی ہوئی ہے اور فتاویٰ کے ساتھ شغف کا یہ حال تھا کہ وفات کے وقت بھی ایک استفتاء ہاتھ میں تھا جسے موت ہی نے ہاتھ سے چھڑا کر سینے پر ڈال دیا لیکن سادگی و تواضع اور خدمت خلق کایہ مقام تھا کہ یہ کوئی کیسے سمجھے کہ یہ بھی کوئی بڑے عالم یا صاحب کرامت صوفی اور صاحب نسبت شیخ ہیں ۔ جب کہ غایت تواضع کا یہ عالم ہو کہ بازارسے سوداسلف نہ صرف اپنے گھر کا بلکہ محلے کی بیوائوں اورضرورت مندوں کا سودا بھی خود لاتے بوجھ زیادہ ہو جاتا تو بغل میں گٹھڑی دبا لیتے اور پھر ہر ایک کے گھر کا سودا مع حساب کے اس کے گھر پہنچاتے تھے۔ کبھی تو اس سودا سلف لانے میں ایسا بھی ہوتا کہ جب آپؒ کسی عورت کو سودا دینے کے لیے جاتے تو وہ دیکھ کر کہتی کہ مولوی صاحب یہ تو سودا آپ غلط لے آئے ہیں ۔ میں نے تو یہ چیز اتنی نہیں اتنی منگائی تھی۔ چناں چہ یہ فرشتہ صفت انسان دوبارہ بازار جاتا اور اس عورت کی شکایت دور کرتا۔ بہرحال آپ اپنے ظاہری اور باطنی علمی و روحانی کمالات میں اپنی نظیر آپ تھے ساری زندگی درس و تدریس تبلیغ و ارشاد اور خدمت ِ افتاء میں مصروف رہے۔۱۷؍جمادی الثانی ۱۳۴۷ھ کو آپ نے دیوبند میں رحلت فرمائی۔(۱۳)