حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
فرمایا : ’’اس دنیا میں برائی اصل ہے، اس کو بروئے کار لانے کے لئے کسی محنت کی ضرورت ہوتی ہے، نہ مشقت برداشت کرنی پڑتی ہے، ورنہ نہ تعلیم گاہیں ہوتیں نہ خانقاہیں اور نہ اس طرح کے تبلیغی اجتماعات ہوتے، تعلیم کی حاجت ہونا یہ دلالت ہے کہ آدمی اپنی ذات کے اعتبار سے کچھ نہیں بلکہ اس کو گھڑگھڑا کر انسان بنایا جاتا ہے، آدمی پیدا ہوتا ہے مگر آدمیت بنائی جاتی ہے، آدمی کی صورت کا نام انسان نہیں بلکہ وہ تو سیرت اور اخلاق کے مجموعہ کا نام ہے۔ مولانا رومیؒ فرماتے ہیں : گر بصورت آدمی انساں بودے احمد و بو جہل ہم یکساں بودے اگر آدمی کی صورت ہی کا نام انسان ہوتا تو نبی کریم Bاور ابوجہل میں کوئی فرق نہ ہوتا، صورت تو دونوں کی یکساں ہی تھیں ، اس سے معلوم ہوا کہ انسانیت دراصل آتی سیرت سے، اخلاق سے، اگر صورت اچھی ہوئی لیکن باطن خراب ہے یا ظاہر درست ہے لیکن اندر ناقص اور نکما تو اس سے کوئی بات پیدا نہ ہوگی، بلکہ یہ صورت حال عیب ہے،ہنر نہیں اور اسی طرح باطن کے خراب رہتے ہوئے ظاہر کو بنانے اور سنوارنے کی جدوجہد بالکل ایسی ہے جیسا کہ نجاست کے اوپر چاندی کا ورق لگادیا جائے، اس طرح نجاست کا پاک ہونا تو درکنار ورق بھی ناپاک اور ناقابل استعمال ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر کوئی بہترین لباس پہن لے مگر دل میں گندگی بھری ہو تو لباس کی وجہ سے وہ نہ تو واجب الاحترام ہوگا اور نہ اس کے کمال میں کسی طرح کا اضافہ ہوگا۔‘‘ ……v……