حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
ندامت پر یا اللہ ،شکر یہ پر جزاک اللہ، اظہارِ عظمت پر لا الٰہ الااللہ، ظہورِ منکر پر لاحول ولاقوۃ الا باللہ، پیغمبروں کا نام آنے پر صلی اللہ ،جوش پر اللہ اکبر وغیرہ، اس کی بے تکلف زندگی ہے ،جب کہ اسی قسم کے اسلامیت شعار اورعربیت نواز محاورے اردو کی روح ہیں ،تو پھر کونسی وجہ ہوسکتی ہے کہ اسے اسلامی زبان نہ کہا جائے اور مسلمانوں کی چیز شمار نہ کیا جائے؟ دو مسلمانوں میں ملاقات اور مکالمے کا آغاز ہوتے ہی بے تکلف جو کلمات نکلتے ہیں وہ صرف عربیت واسلامیت ہی کے آئینہ دار ہوتے ہیں ، مثلاً السلام علیکم !مزاجِ اقدس یا مزاج شریف ، جناب عالی، خیر وعافیت ، تشریف ارزانی، ماحضرتناول، اہل بیت کی صحت ،حاضر ہوتا ہوں وغیرہ ان جملوں کا اگر عطرکشید کیا جائے تو اسلامیت وعربیت کے سوا ان میں سے اور کیا نکل سکتا ہے؟ یہ وہ جملے ہیں جو ملاقات ہوتے ہی گویا ایک سانس میں زبان سے نکلتے ہیں ۔ اس سے دوسری عام بے تکلف گفتگوؤں کا اندازہ کر لیا جائے اور وہ تصانیف یا عبارت یا شاعری جس میں ایک اردو کا مصنف یا شاعر کچھ سوچ بچار سے کام لیکر کلام کرے تو اس کی اسلامی ذہنیت جس عربیت واسلامیت کا مظاہرہ کرے گی وہ اس سے بھی زیادہ ہوگا جو ان جملوں سے اندازہ کرایا گیا ہے۔ غرض عربی زبان جو ہرہے اور اردو زبان وہ آئینہ ہے جس میں اس جوہر کی عکاسی ہورہی ہے ، تو کیا اس اسلامیت کی آئینہ داری کے ہوتے ہوئے اردو مسلمانوں کے لئے کوئی ناقابل اعتناء زبان رہ جاتی ہے؟ اگر فی الحقیقت اللہ کے ان ناموں ، اس کے ان محاوراتی حقائق ومعارف کی حفاظت کوئی اسلامی فریضہ ہے جن کو اردو کی تعبیرات نے اپنے دامنوں میں چھپا رکھا ہے تو خود ار دو کی حفاظت کیوں اسلامی فریضہ نہیں ہے؟پھر اردو کی صورت چھوڑ کر اگر اس کے مادہ پر غور کیا جائے تو مسلمانوں نے اپنے مخصوص علمی مذاق کے ماتحت اسلامی علوم اس میں منتقل کئے ،آج کوئی علم وفن ایسا نہیں جس میں ہزاروں کی تعداد میں اردو کے سفینے موجود نہ ہوں اور عربی سے اردو میں منتقل نہ ہوچکے ہوں ۔ پھر ایک علومِ قدیمہ ہی نہیں بلکہ علومِ جدید ہ اور فنونِ عصریہ کا لا محدود ذخیرہ ہے جسے مسلمانوں نے اردو کی زینت بنادیا ہے، دکن کی دولت ابدمدت نے لاکھوں روپیہ صرف کر کے سائنس ،فلسفہ، کیمسٹری،تاریخ ،جغرافیہ اور تمام جدید فنون کو دوسری زبانوں سے اردو میں منتقل کردیا ہے۔ غرض اردو زبان آج ایک قابل فخر علمی زبان بن گئی ہے جس نے تمام علومِ قدیمہ وجدید ہ کو اپنے وسیع دامنوں میں چھپا لیا ہے۔ پس جس طرح اس وقت ہندوستان کی کوئی ایک زبان بھی خواہ ہندی ہو یا