حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
العلمیۃ والثقافیۃ مع الجامعات الاسلامیۃ فی العالم الاسلامی مع توحید المناھج الدراسیۃ حتی تسھل معادلۃ الشھادات فیما بینھا و تفسح طرق الدعوۃ والارشاد الدینی علی صعید عالمی، و نقترح لتحقیق ھذا الھدف انشاء اعتماد مالی مشترک علی نطاق دولی و اقامۃ العلاقات المتبادلۃ بین الجھات الاسلامیۃ لنشر الدعوۃ الاسلامیۃ و مواجھۃ الحرکات الھدامۃ والأفکار اللادینیۃ۔ والواقع أن العلاقات المتبادلۃ الوثیقۃ بین الجامعات سیکون لھا تاثیر فی تحقیق ما نھدف الیہ من تعیم الدعوۃ علی أوسع نطاق والوقوف فی وجہ الجھود المعادیۃ للاسلام فی سائر أقطار العالم۔ ھذہ لمحۃ خاطفۃ عن الجامعۃ و انجازاتھا و اشارۃ الی بعض ما نتمنی تحقیقہ فی المستقبل وھی أمور تقتضی العنایۃ والمشورۃ الصالحۃ لیکون ھذا الاحتفال الدینی المئوی ھادفاً بعید الأثر، یبقی صداہ فی الأجیال القادمۃ۔ و أخیرا أکرر الشکر والتقدیر لسماحۃ الرئیس و أصحاب الفضیلۃ العلماء و أقطاب الفکر الاسلامی و کافۃ المشارکین فی الاحتفال و أقدم الیھم أخلص التحیات۔ و کل عام و انتم بخیر۔ و آخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین محمد طیب رئیس الجامعۃ الاسلامیۃ دارالعلوم بدیوبند-الہند ان کے بعد دوسرے اسلامی ملکوں کے سربراہوں کے پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے۔ جن میں اُردن کے شاہ حسین اور پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق کے پیغامات قابل ذکر ہیں ۔ ان پیغامات میں کہا گیا کہ دارالعلوم دیوبند نے جنوبی ایشیاء اور پورے عالم اسلام میں جو عظیم علمی، دینی، تبلیغی اور اصلاحی خدمات انجام دی ہیں وہ تاریخ اسلام میں سنہری حروف کے ساتھ محفوظ ہیں ۔ اس تین روزہ عظیم الشان صد سالہ تقریبات میں عالم اسلام کی جن نامور شخصیتوں نے خطاب فرمایا۔ ان میں مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ، مولانا مفتی محمود صاحبؒ، مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، مولانا سعید احمد اکبرآبادیؒ اور مولانا عبد القادر آزاد وغیرہ حضرات کے اسمائے گرامی نمایاں ہیں ۔