حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
دلائل سے مبرہن کیا ہے اور ان کے بعد ان کے تلامذہ نے اس سلسلے کو نہر سے بحر بنا دیا۔ دارالعلوم کے مشہور مصنفین جنہوں نے فنون دینیہ، حدیث، تفسیر، فقہ، کلام، احسان، اجتماعیات، سیاسیات، تاریخ اور سیرت وغیرہ میں تصنیفی خزانہ جمع کیا ہے ان میں سرِ فہرست نام حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانویؒ کا آتا ہے جن کی تصانیف کا عدد ایک ہزار تک پہنچا ہوا ہے جو موصوف نے ہر علم و فن میں ، نثر و نظم میں ، عربی فارسی اور اردو میں مدوّن فرمائیں ۔ حضرت مولانا حبیب الرحمن صاحب عثمانیؒ مہتمم سادس دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا عبدالعزیز صاحبؒ محدث گوجرانوالہ پاکستان، حضرت اقدس مولانا خلیل احمد صاحبؒ سابق مدرس دارالعلوم دیوبند و محدّث مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور، حضرت علامہ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحبؒ محدّث دارالعلوم دیوبند، پھر ان کے تلامذہ میں حضرت شیخ الاسلام ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ ’’صاحبِ فتح الملہم‘‘ حضرت علامہ مفتی کفایت اللہ صاحبؒ محدّث مدرسہ امینیہ دہلی و صدر جمعیۃ علماء ہند، حضرت مولانا مناظر احسن صاحب گیلانیؒ مدیر رسالہ ’’القاسم‘‘ و ’’الرشید‘‘ دیوبند، حضرت مولانا محمد اعزاز علی صاحبؒ شیخ الادب والفقہ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی مہدی حسن صاحبؒ سابق صدر مفتی دارالعلوم دیوبند، حضرت علامہ انور شاہ صاحب کشمیریؒ محدّث دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ محدّث دارالعلوم دیوبند، پھر حضرت علامہ کشمیریؒ کے تلامذہ میں مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ، مولانا بدر عالم صاحب میرٹھی ثم المدنیؒ، مولانا مفتی محمد شفیع صاحبؒ مفتی اعظم پاکستان، مولانا سعید احمد صاحب اکبرآبادیؒ، مدیر برہان دہلی، مولانا منظور نعمانی صاحب مدیر ’’الفرقان‘‘ لکھنؤ، مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلویؒ شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ لاہور، مولانا حامد الانصاری غازی صاحب، نیز حضرت شاہ صاحبؒ کے حقیر ترین تلامذہ میں یہ احقر راقم السطور بھی شامل ہے، جس کی تصنیفات سو سے اوپر ہیں ، اس کے بعد حضرت مولانا مدنیؒ کے تلامذہ میں مولانا عبدالحق صاحب بانیٔ دارالعلوم اکوڑہ خٹک پاکستان، مولانا سید محمد میاں صاحبؒ محدّث مدرسہ امینیہ دہلی، مولانا منت اللہ صاحب رحمانیؒ، سربراہ مدرسہ رحمانیہ مونگیر، بہار وغیرہ اور ہزاروں وہ فضلاء ہیں جن کے قلم سے ہزارہا تصانیف وجود میں آئیں اور اس طرح تصنیف کے سلسلہ میں بھی یہ مکتبِ فکر برصغیر کے تمام مکاتبِ فکر سے آگے اور ممتاز ہے، جس نے دین کے ہر ہر گوشے کو اجاگر کیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق مسائل کو علمی رنگ میں دنیا کے سامنے رکھا۔ ساتھ ہی دارالعلوم محض ایک تعلیم گاہ ہی نہیں بلکہ ایک عملی تربیت گاہ بھی ہے جہاں علم کے ساتھ عملِ