حیات طیب رحمہ اللہ تعالی جلد 1 |
یات طیب |
|
اسپیشل ٹرین کے پہنچنے پرہوئی۔ پاکستان سے ایک ہزار سے زائد افراد پر مشتمل ایک اسپیشل ٹرین جس کی قیادت حضرت مولانا مفتی محمود صاحبؒ حضرت مولانا عبید اللہ صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور، حضرت مولانا عبد القادر آزاد صاحب، حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب اور حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی وغیرہ حضرات علماء نے کی۔ صبح ۶؍بجے دیوبند کے اس نئے اسٹیشن پر پہنچی جو پنڈال کے سامنے ان تقریبات کے لیے بنایا گیا تھا۔ اسپیشل ٹرین کو لاہور میں کسٹم اور ایمیگریشن اور محکمہ صحت کے عملے نے بہت گرم جوشی کے ساتھ رخصت کیا تھا اس اسپیشل ٹرین کا استقبال دارالعلوم دیوبند کے منتظمین اور اہل دیوبند نے بڑے پُرتپاک انداز میں کیا۔ ۲۰؍مارچ کو ہندوستان کے مختلف شہروں اور علاقوں سے اسپیشل ٹرینیں آدھ آدھ گھنٹہ بعد دیوبند آتی رہیں اور شام تک دیوبند کا ہر حصہ علماء کرام اوردوسرے لوگوں سے بھر چکا تھا۔ ہر طرف آدمی ہی آدمی نظرآتے تھے۔ لوگوں کی رہائش کے لیے پنڈال کے ارد گرد خیمے لگائے گئے تھے اور ہر ملک کے لیے الگ الگ خیمے تھے اور وہاں پر رہائش کا اچھا انتظام کیا گیا تھا۔ ۲۱؍مارچ تقریبات کے پہلے روز سب سے پہلے صبح نوبجے ہندوستان کے محکمے ڈاک نے اسی صدسالہ تقریبات کے لیے جو ٹکٹ جاری کیا تھا اس کی خریداری کا افتتاح کیا اور ڈاک خانے کے بڑے افسر نے دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحبؒ کے لیے ٹکٹوں کا پیکٹ بطور تحفہ پیش کیا اور اس کے بعد اس ٹکٹ کی فروخت دارالعلوم دیوبند اور پنڈال کے قریب بنے ہوئے ڈاک خانہ میں شروع کی گئی اور چند ہی گھنٹوں میں اس ٹکٹ کا اسٹال مکمل طور پر ختم ہوگیا۔ ۲۱؍مارچ بروز جمعہ پنڈال ہی میں نماز جمعہ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ پنڈال اتنا بڑا بنایا گیا تھا کہ اس میں تقریباً دس لاکھ افراد بیٹھ سکتے تھے۔ اسٹیج بھی بہت بڑا بنایا جس میں تقریباً تین ہزار افراد کے بیٹھنے کی گنجائش تھی۔ اسٹیج پر کرسیاں لگائی گئی تھیں ۔ پنڈال میں سب سے آگے صحافیوں کے لیے میز کرسیاں لگائی گئی تھیں ۔ نماز جمعہ میں تقریباً انیس بیس لاکھ افراد نے شرکت کی اور اتنا بڑا ہجوم تھا کہ تمام پنڈال اور اس کے ارد گرد اور تمام وہ شامیانے جو لوگوں کے قیام کے لیے بنائے گئے تھے نمازیوں سے بھر گئے تھے اور پھر بھی بہت سارے لوگ رہ گئے جنھوں نے اپنی نماز کا الگ انتظام کیا۔ واضح رہے کہ دیوبند کی تمام مساجد اور دارالعلوم کی بڑی مسجد میں بھی جمعہ کا انتظام حسبِ سابق تھا۔ پنڈال میں جمعہ کی نماز کی امامت کے فرائض حکیم الاسلام حضرت مولانا محمد طیب صاحبؒ مہتمم دارالعلوم دیوبند نے انجام دئے اور نماز کے بعد اتنے بڑے اجتماع نے اسلام کی سربلندی اور عالم اسلام کی خوشحالی اور اجتماع کی کامیابی کے لیے دعا کی۔ عجیب منظر تھا۔ بچے، بوڑھے، جوان، علماء، مشائخ، صوفیا اور عوام ہر قسم کے لوگ خدا تعالیٰ کے سامنے آہ وزاری کر رہے تھے اور اپنے عجز کا اظہار کر رہے تھے۔ اسی عاجزی اور آہ وزاری کا ثمرہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سہ روزہ اجتماع کامیاب کیا اور اتنے بڑے ہجوم میں کسی قسم کا کوئی حادثہ پیش نہیں آیا اور نہ ہی کسی شخص