محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
تعویذ کے جائز ہونے کی شرطیں مسئلہ(۳۳): علماء کرام نے تعویذ کو تین شرطوں کے ساتھ جائز قراردیا ہے : ۱؍… تعویذ کلام ِ الہی ، اسماء الہی اور صفاتِ الہی سے ہو ۔ ۲؍… عربی زبان میں اور ایسے کلمات کے ذریعہ ہوں جن کے معانی معلوم ہوں ۔ ۳؍… اعتقاد یہ ہو کہ تعویذات بذاتہا مؤثر نہیں بلکہ مؤثرِ حقیقی اللہ کی ذات ہے، اگراس کی مشیت ہو تو اسے اثر انداز بنا سکتا ہے ورنہ نہیں ۔ (۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما في ’’ الکتاب ‘‘ : {قل أعوذ برب الفلق ، من شر ماخلق، ومن شر غاسق إذا وقب، ومن شر النفٰثٰت في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد}۔ (سورۃ الفلق :۱- ۵) ما في ’’ التفسیر المنیر‘‘ : أجاز أکثر العلماء الاستعانۃ بالرقی أو الرقیۃ ، لأن النبي صلی اللہ علیہ وسلم اشتکی فرقاہ جبرئیل علیہ السلام ، وقال : بسم اللہ أرقیک من کل شيء یؤذیک ، واللہ یشفیک کما تقدم ۔ (۱۵/ ۸۷۹، مکتبہ رشیدیہ کوئٹہ) ما في ’’ السنن لأبي داود ‘‘ : عن خارجۃ بن الصلت التمیمي عن عمہ : ’’ أنہ أتی النبي صلی اللہ علیہ وسلم فأسلم ثم أقبل راجعاً من عندہ فمر علی قوم عندہم رجل مجنون موثوق بالحدید ، فقال أہلہ: إنا حُدثنا أن صاحبکم ہذا قد جاء بخیر فہل عندک شيء تداوونہ ، فرقیتہ بفاتحۃ الکتاب فبرأ فأعطوني مائۃ شاۃ فأتیت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فأخبرتہ فقال : ہل إلا ہذا ، وقال مسدد في موضع آخر : ہل قلت غیر ہذا ؟ قلت لا قال : خذہا فلعمري لمن أکل برقیتہ باطل لقد أکلت برقیۃ حق ‘‘ ۔ (۲/ ۵۴۴،کتاب الطب ، باب کیف الرقی) ما في ’’ بذل المجہود ‘‘ : وفیہ دلیل علی أن الرقیۃ علی قسمین : حق وباطل ، فرقیۃ الحق : ما کانت بالکتاب والسنۃ أو غیرہما من ذکر اللہ تعالی، وإن کان بغیر ذلک مما لا یعرف معناہ لا یجوز لاحتمال أن یکون فیہا کفر۔ (۱۱/ ۶۲۴)=