محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
مسائل زکوۃ شرائطِ زکوۃ مسئلہ(۸۷) : زکوۃ اسی شخص پر واجب ہوگی جس میں وجوبِ زکوۃ کی شرطیں موجود ہوں اور وہ شرائط یہ ہیں:… صاحبِ مال کاآزاد ہونا،عاقل ہونا،بالغ ہونا،مسلمان ہونا،مقدارِ نصاب کا مالک ہونا،ملک کاتام ہونا، مالِ نصاب پر حولانِ حول یعنی ایک سال گزرجانا،مال کا ضرورتِ اصلیہ اورقرض سے خالی ہونا۔(۱)ادائیگیٔ زکوۃ کے لیے کوئی تاریخ متعین نہیں مسئلہ(۸۸): زکوۃ کی ادائیگی کے واجب ہونے کے لیے کوئی مہینہ یا تاریخ متعین نہیں ، بلکہ جس دن نصاب پر سال پورا ہو اسی تاریخ کو زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی ،مثلاً کوئی شخص یکم محرم الحرام کو صاحبِ نصاب ہوا، تو آئندہ یکم محرم الحرام کو اس پر زکوۃ کی ادائیگی واجب ہوگی(۲)،مگر عام لوگ رمضان المبارک میں زکوۃ اداکرتے ہیں، ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما في ’’ الہدایۃ ‘‘ : الزکوۃ واجبۃ علی العاقل البالغ المسلم إذا ملک نصاباً ملکاً تاماً وحال علیہ الحول ۔ (۱/۱۶۵) ما في ’’ البحر الرائق والبدائع ‘‘ :وشرط وجوبہا العقل والبلوغ والإسلام والحریۃ وملک نصاب حولي فارغ عن الدین وحاجتہ الأصلیۃ ۔ (البحرالرائق :۲/۳۵۳، ۳۵۵، بدائع الصنائع :۲/۳۷۷، تبیین الحقائق: ۲/۱۹، الفتاوی الہندیۃ : ۱/۱۷۲، الفتاوی التاتارخانیۃ : ۲/۳ ، فتح القدیر: ۲/۱۶۳، کتاب الزکاۃ) (نوادر الفقہ:۲/۳۱) الحجۃ علی ما قلنا: (۲) ما في ’’ مراقي الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوي ‘‘ : وشرط وجوب أدائہا حولان الحول علی النصاب الأصلي۔ (ص: ۳۸۹)