محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
غیر مسلموں کے ساتھ ہمدردی اور حسنِ سلوک مسئلہ(۳۸۲): انسانی ہمدردی کے تحت شرعی حدود میں رہتے ہوئے، مسلمانوں کا غیر مسلم برادری کے ساتھ حسنِ سلوک ، مالی تعاون ، مظلوموں کی مدد، بایں طور جائز ہے کہ وہ اسلام کے قریب ہوں ، اورنفرت کی بنیادیں ختم ہوں ، تاکہ دعوتِ اسلام ان تک پہونچانا آسان ہو، نیز ان کو اسلامی تعلیمات کے اعلیٰ اخلاق اور کردار بتائے جائیں ، کیونکہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا فر مان ہے : ’’ إنما بعثت لأتمم مکارم الأخلاق‘‘، کہ میں عمدہ اخلاق کے اتمام ہی کی غرض سے دنیا میں بھیجا گیا ہوں ۔ (۱) ------------------------------ =ما في’’ مرقاۃ المفاتیح ‘‘ : قولہ : (من تشبہ بقوم) أي من شبہ نفسہ بالکفار مثلاً في اللباس وغیرہ، أو بالفساق، أو الفجار، أو بأہل التصوف والصلحاء الأبرار۔ (۸/۲۲۲،کتاب اللباس، رقم الحدیث:۴۳۴۷) ما فی ’’ المقاصد الشرعیۃ ‘‘: وبقاعدۃ فقہیۃ سداً للذرائع:’’ إن الوسیلۃ أو الذریعۃ تکون محرمۃ إذا کان المقصد محرماً، وتکون واجبۃ إذا کان المقصد واجباً ‘‘۔ (ص:۴۶) ما فی ’’ اعلام المؤقعین ‘‘ : ’’ وسیلۃ المقصود تابعۃ للمقصود وکلاہما مقصود ‘‘ ۔ (۳/۱۷۵) الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما فی ’’ مشکوٰۃ المصابیح ‘‘ : عن مالک بلغہ أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: ’’ بعثت لأتمم حسن الأخلاق ‘‘ ۔ رواہ أحمد عن أبي ہریرۃ ۔ (ص : ۴۳۲) ما فی ’’ الحدیث ‘‘ : عن عبد اللہ بن عمرو قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : ’’الراحمون یرحمہم الرحمن، ارحموا من في الأرض یرحمکم من في السماء ‘‘ ۔ (السنن الترمذی : ۲/۱۴، مشکوۃ المصابیح: ص۴۲۳)=