محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
ہوجانا ،جب کہ روزہ یاد ہو (۱) ، کچے چاول ،گوشت یا گندم کھا لینا ،سگریٹ ،حقہ ، بیڑی وغیرہ پینا یا مروج طریقے پر نسوارکا استعمال، ان تمام چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اورقضاء کے ساتھ ساتھ کفارہ بھی لازم ہوتا ہے ۔ٹافی(چاکلیٹ) چنا یا سینگ پھلی کا دانہ روزے دار کے منہ میں چلا گیا مسئلہ(۲۰۳): چند روزے دار کھیل میں مشغول ہوں، یایو ں ہی گولیوںسے ( جو بچے کھاتے ہیں) ، مثلاً چنے ـیا سینگ پھلی کے دانو ں سے کھیل رہے ہوں،اور ایک نے دوسرے کی طرف دانہ اچھالااور وہ اس کے منہ میں چلاگیا ، درآنحالانکہ اس کو اــپنا روزہ بھی معلوم تھا تو اس کا روزہ فاسد ہوجائے گا ۔ (۲)روزہ کی حالت میں استنجاء کرنے میں مبالغہ کرنا مسئلہ(۲۰۴): اگر کوئی عورت رمضان شریف میں استنجاء کرتے وقت اپنی انگلی کو فرج (شرمگاہ)کے اندر کسی قدرداخل کر کے صفائی کرے، اور پانی اس حدتک پہونچ جائے جہاں سے معدہ اسے جذب کرلیتاہے ، یا وہ خود معدہ میں پہونچ جاتاہے تو روزہ فاسد ہوجائے گا،ورنہ نہیں، مگر احتیاط بہتر ہے ۔(۳) ------------------------------ (۱) ما في ’’ الفتاوی الہندیۃ ‘‘ : من جامع عمداً في أحد السبیلین فعلیہ القضاء والکفارۃ ولا یشترط الإنزال في المحلین کذا في الہدایۃ۔ (۱/ ۲۰۵) الحجۃ علی ما قلنا: (۲) ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : وفي الفتاوی الظہیریۃ : لو أن رجلاً رمی إلی رجل حبۃ عنب فدخلت حلقہ ، وہو ذاکر لصومہ یفسد صومہ۔(۲/۴۷۵ ، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ) الحجۃ علی ما قلنا: (۳) ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار‘‘ : (أو أدخل أصبعہ الیابسۃ فیہ) أي دبرہ أو فرجہا ولو مبتلۃ فسد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ولو بالغ في الاستنجاء حتی بلغ موضع الحقنۃ فسد۔=