محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
پہاڑی کوئلہ کی راکھ پر تیمم صحیح اور درست ہے مسئلہ (۶۵): پہاڑی کوئلہ جوکان سے نکالا جاتا ہے حکماً پتھر ہے ،اس لئے یہ جنسِ ارض میں شمار ہوگا ،لہذااس پر اور اس کی راکھ پر تیمم کرنا صحیح اور درست ہے ،اور جو کوئلہ لکڑی کو جلا کر حاصل ہوتا ہے ، اس پر جنسِ ارض کی تعریف صادق نہیں آتی ہے ،اس لئے اس پر اور اس کی راکھ پر تیمم کرنا صحیح نہیں ہے ۔(۱) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا: (۱) ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (فلا یجوز) بلؤلو ولو مسحوقاً لتولدہ من حیوان البحر، ولا بمرجان لشبہہ للنبات لکونہ أشجاراً نابتۃً في قعر البحرعلی ما حررہ المصنف، ولا (بمنطبع) کفضۃ وزجاج (ومترمد) بالاحتراق إلا رماد الحجر فیجوز کحجر مدقوق أومغسول۔’’درمختار‘‘۔ قولہ : (ومترمد) أي ما یحترق بالنار فیصیر رماداً ۔ بحر۔ (۱/۴۰۵؍۴۰۶ ، باب التیمم) ما في ’’حلبي کبیر والبحر الرائق ‘‘ : ولا یجوز عندنا بما لیس من جنس الأرض، وہو ما یلین بالنار أو یترمد کالذہب والفضۃ والحدید والرصاص والصفر والنحاس ونحوہا مما ینطبع ویلین بالنار وکالحنطۃ وسائر الحبوب والأطعمۃ من الفواکہ وغیرہا وأنواع النباتات مما یترمد بالنار إذا لم یکن علیہا غبار۔ (ص۷۶، البحرالرائق:۱/۳۲۱)(جدید فقہی مسائل:۱/۱۱۲)