محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
قرض پر زکوۃ مسئلہ(۱۲۳): جو رقم قرضِ حسنہ کے طورپر دی گئی اس کے وصول ہونے پر سالہائے گذشتہ کی زکوۃ واجب ہوتی ہے، اگر وصول ہونے سے پہلے دیدیا تویہ بھی جائزہے، اور اگر وصولی کی بالکل ہی امید نہ ہوتو زکوۃ واجب نہیں ہوگی، لیکن خلافِ توقع وامیدوصول ہوجائے تو سالہائے گذشتہ کی زکوۃ دینا بھی واجب ہوگا۔(۱)ادائیگیٔ زکوۃ کے لیے نیت ضروری ہے مسئلہ(۱۲۴): زکوۃ کی نیت کئے بغیر زکوۃ اداکرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی، کیونکہ مالِ زکوۃ دیتے یانکا لتے وقت زکوۃ کی نیت کرنا ضروری ہے۔(۲) ------------------------------ الحجۃ علی ما قلنا : (۱) ما في ’’ حاشیۃ الطحطاوي علی مراقي الفلاح ‘‘ : وزکاۃ الدین علی أقسام : فإنہ قوي ووسط وضعیف ، فالقوي وہو بدل القرض ومال التجارۃ إذا قبضہ وکان علی مقر ولو مفلساً أو علی جاحد علیہ بینۃ زکاہ لما مضی ۔ (ص :۳۹۰ ، کتاب الزکاۃ) (فتاوی حقانیہ : ۳/۵۳۲- ۴۹۸) ما في ’’ الدر المختار مع رد المحتار ‘‘ : (ولو کان الدین علی مقر مليء أو) علی(معسر أو مفلس) أي محکوم بإفلاسہ (أو) علی (جاحد علیہ بینۃ) وعن محمد لا زکوۃ، وہو الصحیح ۔’’ درمختار‘‘۔ (۳/۱۸۴؍۱۸۵ ، مطلب : في زکاۃ ثمن المبیع وفائً) (فتاوی حقانیہ:۳/۴۹۸، فتاوی محمودیہ:۳/۴۰۲، فتاوی عثمانی:۲/۶۴) الحجۃ علی ما قلنا: (۲) ما في ’’ الأشباہ والنظائر لإبن نجیم الحنفي ‘‘ : وأما الزکاۃ فلا یصح أدائہا إلا بالنیۃ۔ (۱/۸۴) ما في ’’ المختصر القدوري والہندیۃ ‘‘: ولا یجوز أداء الـزکـاۃ إلا بنیۃ مقارنۃ للأداء أو مقارنۃ لعزل مقدار الواجب ۔ (المختصر القدوری : ص۴۳ ، الفتاوی الہندیۃ : ۱/۱۷۰، تنویر الأبصار مع الدر علی الرد : ۳/۱۸۷)