محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
زمانۂ سیاست واقتصادیت: موجودہ زمانہ سیاسی اور اقتصادی زمانہ کہلاتا ہے ، ہر نئی بننے والی حکومت اور ہر سرمایہ دار کا یہ نظریہ ہوتا ہے کہ اگر ملک کی معیشت مضبوط ہے تو حکومت مضبوط اور کاروبار مستحکم ہے ، معیشت کی خوشحالی رعایا کی خوشحالی کا ذریعہ ہے ، جب کہ بات اس کے بالکل برعکس ہے ، کیوں کہ ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ جو ممالک معیشت میں آگے ہیں دیکھنے میں آتا ہے کہ وہاں کی رعایا خوشحال تو ہے مگر قسمہا قسم کے انفیکشن اور ڈپریشن سے دوچار ہیں ، ایسے ہی سرمایہ دار کہ ملک کی معاشی ترقی میں ان کا اہم کردار ہوتا ہے ، ہر سرمایہ دار کو یہ فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ میرا کاروبار مزید ترقی کرے ، مجھے زیادہ سے زیادہ بینیفٹ (نفع) ملے۔سب کچھ ہے پھر بھی کچھ نہیں: دراصل ملک کی استحکامیت کا انحصار محض معیشت پر ہی نہیں جیسا کہ آج کل کا نظریہ ہے ، بلکہ بسا اوقات سرمایہ داروں کی معاشی حالت ظاہراً بڑی بہتر ہوتی ہے ، مگر آئے دن حوادث وواقعات رونما ہوتے رہتے ہیں ، اخباروں کی سرخیاں ہماری نظروں سے گزرتی ہیں ، کہ فلاں کروڑ پتی کے پاس اسبابِ عیش مہیا ہیں ،معاشی حالت بہتر ہے ، لیکن اس کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ، راتوں کو نیند حرام ہے جس کی وجہ سے ہائی پاور نیند کی گولیاں حلق سے نیچے اتارنی پڑتی ہیں، اعلی اور طاقتور غذاؤں کے کھانے سے ڈاکٹروں نے منع کیا ہوا ہے ، صرف دال روٹی وہ بھی بغیر نمک کے کھانے کی اجازت ہے ، ہمارے ملک میں بھی اس کی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں ، کہ بہت سے سرمایہ داروں کی حالت ’’ خشب مسندۃ ‘‘ کی ہے، کہ ظاہراً جتنے ٹیپ