محقق و مدلل جدید مسائل جلد 1 |
|
اسٹیڈیم کے ٹکٹ خریدنا مسئلہ(۳۶۶) : اسٹیڈیم میں مختلف قسم کے کھیل اور ان کے میچ وغیرہ ہوتے ہیں،ان میچوں کو دکھانے کیلئے اسٹیڈیم کی انتظامیہ داخلہ کا ٹکٹ وصول کرتی ہے ، ٹکٹ لے کر اسٹیڈیم میں جانا اورمیچ دیکھنا اس وقت جائز ہوگا ،جبکہ اس میچ میں کھلاڑیوں کا پوشاک ایسا ہو جس سے ستر پوشی ہوتی ہو، کھیلنے والے نامحرم نہ ہوں، اور اسٹیڈیم میں کوئی خلافِ شرع امور انجام نہ دیئے جاتے ہوں، بے حیائی کے مظاہرے نہ ہوتے ہوں ۔ اور اگر اسٹیڈیم میں نامحرم کھیل رہے ہوں ، یا ان کے ستر ڈھکے ہوئے نہ ہوں، یا اس کے علاوہ کوئی اور خلافِ شرع امور انجام دیئے جارہے ہوں ، یا اسٹیڈیم میں کھیل کے علاوہ کوئی اورخلافِ شرع پروگرام ہو رہا ہو ، تو پھر ایسی صورت میں اسٹیڈیم کے ٹکٹ لینا اور دینا دونو ں جائز نہیں ہیں۔ لیکن چونکہ اب یہ سب ممکن نہیں، اس لئے کہ وہاں تالیاں بجائی جاتی ہیں، سیٹیاں کسی جاتی ہیں، مزاق اڑایا جاتاہے ، ایک دوسرے کی دل آزاری کی جاتی ہے ، عورتیں اغل بغل میں نیم برہنہ لباس میں ہوتی ہیں ، اور سب سے اہم بات یہ کہ وقت ضائع ہوتاہے ، جبکہ وقت سب سے قیمتی سامان ہے ، لایعنی کام میں آدمی مصروف رہتا ہے ، نیز وہاں فاسقوں اور فاجروں کا اجتماع ہوتا ہے ، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے، ------------------------------ =ما فی ’’ نصب الرأیۃ ‘‘ : ولا یجوز أخذ أجرۃ عسب التیس وہو أن یؤجر فحلاً لینزو علی الإناث لقولہ علیہ الصلاۃ والسلام : ’’ إن من السحت عسب التیس ‘‘ ۔ والمراد أخذ الأجرۃ علیہ ۔ (۴/۳۲۵ ، باب الإجارۃ الفاسدۃ ، الاختیار لتعلیل المختار : ۲/۳۱۸ ، فصل فساد الإجارۃ) (فتاوی محمودیہ:۱۷/۱۰۹)